الخدمت فاؤنڈیشن سندھ اور ادویہ ساز کمپنی کے درمیان معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) الخدمت فاؤنڈیشن سندھ اورادویہ ساز کمپنی PharmEvo کے درمیان خصوصی میڈیکل کیمپس کے انعقاد کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کے تحت ہر ماہ دو کیمپس لگائے جائیں گے جن میں ماہرین نفسیات عوام کو علاج، مشاورت اور آگاہی فراہم کریں گے۔اس موقع پر صدر الخدمت فاؤنڈیشن سندھ ڈاکٹر سید تبسم جعفری اور PharmEvo کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ و سیلز کامران علی زمان نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سید تبسم جعفری کاکہناتھاکہ ذہنی تناؤ اور اضطراب آج کے دور کا ایک نہایت اہم مسئلہ ہے اور اس پر توجہ دینا معاشرے کی مجموعی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ ہم فارم ای وو کے تعاون سے عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرییں گے۔اس موقع پرکامران علی زمان نے کہاکہ مستحقین کیلئے الخدمت فاؤنڈیشن کی خدمات قابل تحسین ہیں،الخدمت کے ساتھ شراکت داری ہمارے اس عزم کی عملی مثال ہے کہ ہم معاشرے کو معیاری طبی سہولیات فراہم کریں۔اس معاہدے کے نتیجے میں سندھ بھر میں عوام کو ذہنی و نفسیاتی صحت کے حوالے سے بہتر سہولیات اور آگاہی فراہم کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الخدمت فاو نڈیشن
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔