سیلاب کے دوران سیاست؟ مریم نواز کا دوسرے صوبوں پر سنگین الزام
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چکوال میں منعقدہ ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حالیہ دنوں میں بدترین سیلاب کی زد میں رہا، تین بڑے دریاؤں کے سیلاب نے صوبے میں شدید تباہی مچائی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مشکل گھڑی میں دوسرے صوبوں کی جانب سے سیاسی بیانات دیے گئے جو افسوسناک ہے، حالانکہ ایسے حالات میں سیاست کے بجائے یکجہتی اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ پنجاب کے تمام وزرا سیلاب متاثرین کے ساتھ میدان میں موجود رہے اور ان کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے۔ ان کے مطابق وزرا کا کام صرف ایئرکنڈیشنڈ کمروں یا پروٹوکول والی گاڑیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام کے درمیان جا کر مسائل حل کرنا اصل قیادت کی پہچان ہے۔
مریم نواز نے اپنی تقریر میں عوامی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جنہیں سڑکیں، مفت ادویات اور لیپ ٹاپ جیسے سہولتیں نہیں ملتیں، انہیں حکمرانوں سے سوال ضرور کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوامی فلاح کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں اور ضرورت مندوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
انہوں نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کا مقصد عوام کی خدمت ہے، اور ایسے اقدامات جاری رہیں گے جن سے نہ صرف تعلیم اور صحت کے شعبے مضبوط ہوں بلکہ عوام کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی بھی آئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ نواز شریف گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن سے این او سی لیکر وہاں گئے تھے، کوئی حکومتی وزیر گلگت بلتستان نہیں گیا نہ کسی نے وہاں مہم چلائی۔
پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان گلگت بلتستان میں جلسے کر رہے ہیں، میٹنگز کر رہے ہیں انہیں تو کوئی نہیں روک رہا۔
رانا ثنا نے کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر خان اجازت لیکر جا سکتے ہیں تو سلمان اکرام راجا کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا کوئی اُمیدوار مقابلے میں ہے ہی نہیں، وہاں صاف، شفاف اور کریڈیبل انتخابات ہونگے۔