وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب بھر میں فلڈ سروے کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
لاہور:
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب بھر میں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے فلڈ سروے کا آغاز کر دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اے سیز کو سروے ٹیموں کی معاونت و مانیٹرنگ کیلئے ہدایات جاری کردی ہیں۔
پنجاب کے 26 اضلاع میں فلڈ سروے کے لیے 1629 ٹیمیں متحرک کر دی گئی ہیں جو سیلاب متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر سروے کا کام کر رہی ہیں۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق چند روز میں ہی ساڑھے 27 ہزار افراد کا ڈیٹا جمع کیا جا چکا ہے اور 48,071 ایکڑ سیلاب متاثرہ اراضی کا سروے مکمل ہو چکا ہے۔
فلڈ سروے ٹیموں نے سیلاب سے منہدم ہونے والے 8,305 گھروں کا ڈیٹا حاصل کر لیا ہے، جبکہ سیلاب کے دوران ہلاک ہونے والے 1,712 مویشیوں کا ریکارڈ بھی جمع کر لیا گیا ہے۔
قصور میں سیلاب زدگان کے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے کا آغاز یکم اکتوبر سے ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سروے کا
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔