WE News:
2026-07-24@06:33:34 GMT

ایشیا کپ کے بعد بھارت اور پاکستان کب دوبارہ ٹکرائیں گے؟

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

ایشیا کپ کے بعد بھارت اور پاکستان کب دوبارہ ٹکرائیں گے؟

ایشیا کپ 2025 میں متحدہ عرب امارات میں بھارت اور پاکستان نے تین بار مد مقابل آ کر سب کو محظوظ کیا، جس میں بھارت نے ہر میچ میں فتح حاصل کی۔

اگلی ملاقات ممکنہ طور پر 2026 کے آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ میں ہوگی، جو بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہو گا۔

ایشیا کپ میں بھارت کی بالادستی

متحدہ عرب امارات میں ہونے والے آخری ایشیا کپ میں دونوں ٹیمیں تین بار مد مقابل آئیں، اور بھارت نے تمام مقابلوں میں فتح حاصل کی، بشمول فائنل کے، جس کے بعد بھارت نے اپنا ایشیا کپ کا تاج برقرار رکھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایشیا کپ: پاک بھارت میچ کے بعد دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے کیا کہا؟

تاہم فائنل کے بعد بھارتی ٹیم نے موہسن نقوی، موجودہ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر، سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر کے ایک چھوٹے تنازعہ کو جنم دیا۔

اگلی ملاقات کب؟

سیاسی کشیدگی کی وجہ سے دوطرفہ سیریز ممکن نہیں، لہٰذا اب بھارت اور پاکستان صرف آئی سی سی ٹورنامنٹس میں، زیادہ تر غیر جانبدار مقامات پر، مد مقابل آئیں گے۔

اگلی ممکنہ میچ 2026 آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ میں متوقع ہے، جو 7 فروری سے 8 مارچ کے درمیان منعقد ہوگا۔ ابتدائی طور پر دونوں ٹیمیں ممکنہ طور پر ایک ہی گروپ میں آ سکتی ہیں، جس سے گروپ مرحلے میں دوبارہ میچ ہونے کا امکان ہے۔

ورلڈ کپ 2026 کا فارمیٹ

2026 کے ورلڈ کپ میں 20 ٹیمیں چار گروپوں میں تقسیم ہوں گی، ہر گروپ میں پانچ ٹیمیں شامل ہوں گی، اور ہر گروپ کی دو بہترین ٹیمیں سپر ایٹ مرحلے میں جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت میچ سے قبل وسیم اکرم کا کھلاڑیوں کو اہم مشورہ

اس کے بعد بہترین 4 ٹیمیں سیمی فائنل میں پہنچیں گی۔ میچ بھارت اور سری لنکا کے 7 مقامات پر کھیلے جائیں گے، اور فائنل ممکنہ طور پر احمد آباد یا کولمبو میں ہوگا، اس بات پر اتفاق ہے کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے ممالک میں میچ نہیں کھیلیں گے۔

بھارت کے لیے مصروف سال

2026 بھارت کے لیے کرکٹ کے لحاظ سے ایک مصروف سال ثابت ہوگا۔ بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (BCCI) نے متعدد اہم ایونٹس کا شیڈول بنایا ہے، جن میں خواتین کے پریمیئر لیگ (WPL) سے آغاز ہوگا، اس کے بعد مردوں کا ٹی 20 ورلڈ کپ، اور پھر آئی پی ایل، جو 15 مارچ سے 31 مئی تک ہونے کا امکان ہے۔ بھارت جنوری میں نیوزی لینڈ کو وائٹ بال سیریز کی میزبانی بھی کرے گا۔

شائقین کے لیے دلچسپی

بھارت اور پاکستان کے میچ ہمیشہ محض کھیل سے بڑھ کر ایک شاندار مظاہرہ ہوتے ہیں، اور دونوں ٹیموں کے مد مقابل آنے پر شائقین کے لیے ایک جشن کا ماحول قائم ہو جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

BCCI ایشیا کپ بھارت بھارتی کرکٹ پاک بھارت پاکستان کرکٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایشیا کپ بھارت بھارتی کرکٹ پاک بھارت پاکستان کرکٹ بھارت اور پاکستان ایشیا کپ ورلڈ کپ کپ میں کے بعد کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف