جرنیل پیٹ کم کریں اور جنگی تیاریوں پر زور دیں، امریکہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
پیٹ ہیکسٹ نے منگل کی سہ پہر جرنیلوں کے ایک اجتماع میں دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس کرہ ارض پر سب سے مضبوط، مہلک اور تعداد میں سب سے زیادہ تیار فوج ہے، کوئی ہمارے قریب نہیں آ سکتا، اگر ہمارے دشمن ہمیں للکارنے کی کوشش کریں گے تو وہ تباہ ہو جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی وزیر جنگ نے جرنیلوں سے خطاب میں پینٹاگون کو جنگ کے لیے تیاری کرنیکا کا حکم دیا ہے۔ پیٹ ہیکسٹ نے منگل کی سہ پہر جرنیلوں کے ایک اجتماع میں دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس کرہ ارض پر سب سے مضبوط، مہلک اور تعداد میں سب سے زیادہ تیار فوج ہے، کوئی ہمارے قریب نہیں آ سکتا، اگر ہمارے دشمن ہمیں للکارنے کی کوشش کریں گے تو وہ تباہ ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان تمام جنگوں میں فتح کو یقینی بنانا چاہتے ہیں، جنہیں ہم خود منتخب کرتے ہیں یا جو ہم پر مسلط کی جاتی ہیں۔ ہیکسٹ نے مزید کہا کہ پینٹاگون میں موٹے جرنیلوں اور ایڈمرلز ناقابل قبول ہیں، آپ کو قد اور وزن کے معیار پر پورا اترنا ہوگا، مزید لمبی داڑھی اور بال نہیں چلیں گے۔
امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ امن کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں جنگ کی تیاری کرنی چاہیے۔ واضح رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل نے حال ہی میں رپورٹ کیا ہے کہ ہزاروں جدید ڈرونز کی تعیناتی کے ذریعے چین کے ساتھ ممکنہ تصادم کی تیاری کے لیے پینٹاگون کا پروگرام اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، امریکی فوج نے کچھ سسٹمز کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے کوشش کی تھی، یہ کوشش، جو دو سال قبل شروع ہوئی تھی اور اسے چین کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری طور پر کم لاگت والے خود مختار ہتھیاروں کی خریداری کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، اب اسے سست رفتاری کے باعث ایک نئی تنظیم کو منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔