انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر مزید کم ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
کراچی:
انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اضافی 2ارب ڈالر کے ترسیلات زر کی متوقع آمد، حکومت کی 40 کروڑ ڈالر مالیت کے عالمی بانڈز کے اجرا کی منصوبہ بندی اور خام تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے رحجان سے درآمدی بل میں متوقع کمی جیسے عوامل کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر مستحکم رہا۔
انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کو دن بھر ڈالر کی قدر تنزلی سے دوچار رہی جس سے ایک موقع پر ڈالر کی قدر 26پیسے کی کمی سے 281روپے 5 پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی لیکن سپلائی بہتر ہوتے ہی درآمدی نوعیت کی ڈیمانڈ آنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر صرف ایک پیسے کی کمی سے 281روپے 30پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 282 روپے 35 پیسے کی سطح پر مستحکم رہی، حکومت کی جانب سے 10 سالہ یورو بانڈز کے سرمایہ کاروں کو 50 کروڑ ڈالر کی ادائیگیوں کا عمل مکمل ہونے اور سیلاب کے باوجود میکرو اکنامک استحکام کی اطلاعات بھی روپے کی قدر میں استحکام کا باعث ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انٹربینک مارکیٹ میں میں ڈالر کی ڈالر کی قدر
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں