’فائبر آپٹک کیبلز کی مرمت ہورہی تھی‘، افغانستان میں انٹرنیٹ سروس بحال کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
افغانستان میں دو روز کی معطلی کے بعد انٹرنیٹ اور دیگر ٹیلی کمیونیکیشن سروسز دوبارہ فعال کردی گئی ہیں۔
افغان میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ملک کے تمام بڑے نیٹ ورکس نے اپنی سروسز بحال کردی ہیں، جن میں انٹرنیٹ اور رابطے کی دیگر سہولیات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں ملک گیر مواصلاتی بلیک آؤٹ، انٹرنیٹ رابطے 14 فیصد تک محدود
مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ اور کمیونیکیشن کا نظام معطل رہا، جس کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انٹرنیٹ پر کسی قسم کی سرکاری پابندی عائد کی گئی تھی۔ ان کے مطابق تکنیکی ماہرین اس وقت فائبر آپٹک نیٹ ورک کی مرمت میں مصروف ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ملک میں موجود فائبر آپٹک کیبلز کافی پرانی اور خستہ ہو چکی تھیں، جنہیں اب بحال کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ انٹرنیٹ کی اس بندش کے باعث افغانستان کے اندر اور بیرون دنیا سے رابطے شدید متاثر ہوئے۔ نہ صرف عام صارفین کو مشکلات کا سامنا رہا بلکہ بینکنگ سسٹمز، آن لائن تعلیم اور دیگر اہم ڈیجیٹل خدمات بھی معطل ہو گئیں۔
مزید برآں کابل کا مرکزی ہوائی اڈہ بھی مکمل طور پر بند رہا، اور اطلاعات کے مطابق جمعرات سے قبل کسی قسم کی پروازیں بحال ہونے کا امکان نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغان حکومت کی سخت گیر پالیسیاں، ملک کے مختلف علاقوں میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ بند
ادھر انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والی بین الاقوامی تنظیم نیٹ بلاکس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انٹرنیٹ کی دستیابی معمول کے مقابلے میں صرف 14 فیصد تک رہ گئی تھی، جو ایک سوچے سمجھے طریقے سے انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے مترادف ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افغان طالبان افغانستان انٹرنیٹ سروسز ٹیلی کمیونیکیشن فائبر آپٹک کیبلز وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان افغانستان انٹرنیٹ سروسز ٹیلی کمیونیکیشن فائبر آپٹک کیبلز وی نیوز افغانستان میں میں انٹرنیٹ
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان