Daily Mumtaz:
2026-06-03@04:46:38 GMT

افغانستان میں 2 روز کے تعطل کے بعد انٹرنیٹ سروس بحال

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

افغانستان میں 2 روز کے تعطل کے بعد انٹرنیٹ سروس بحال

 

افغانستان میں تمام ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس نے انٹرنیٹ اور کمیونیکیشن سروسز بحال کردیں ۔
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز تقریباً 48 گھنٹوں تک معطل رہیں اور طالبان حکام نے اب تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ افغانستان میں انٹرنیٹ پر پابندی کی خبریں درست نہیں ہیں، اس وقت تکنیکی ٹیمیں فائبر آپٹک کیبلز کی مرمت کر رہی ہیں۔
اس کے علاوہ افغان ترجمان نے پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ میں بتایا کہ فائبر آپٹک کیبلز کافی خستہ ہوچکی تھیں اور اب ان کی مرمت کی جا رہی ہے۔
خیال رہےکہ طالبان حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر ملک میں انٹرنیٹ سروس بند کیے جانےکے بعد اندرون اور بیرون ملک رابطے بری طرح متاثر ہوئے تھے جب کہ ضروری خدمات، بشمول بینکنگ اور آن لائن تعلیم بھی شدید متاثر ہوئی تھی۔
کابل کا مرکزی ائیرپورٹ بھی مکمل طور پر بند ہو گیا تھا اور اطلاعات ہیں کہ جمعرات سے پہلے کوئی پرواز نہیں ہوگی۔
سائبر سکیورٹی اور انٹرنیٹ گورننس پر نظر رکھنے والی تنظیم نیٹ بلاکس نے کہا ہےکہ انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی عام حالات کے مقابلے میں صرف 14 فیصد رہ گئی ہے اور یہ صورتحال جان بوجھ کر انٹرنیٹ سروسز کو منقطع کرنے کے مترادف لگتی ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی