بحیرہ عرب میں موجود سسٹم کے شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہونیکا امکان، مجوزہ نام بھی سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محکمہ موسمیات نے بحیرہ عرب میں موجود موسمی سسٹم کے شدت اختیار کرنے پر کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔
ادارے کے مطابق شمال مشرقی بحیرہ عرب میں موجود سسٹم ڈپریشن سے بڑھ کر ڈیپ ڈپریشن میں تبدیل ہوچکا ہے اور آئندہ 12 گھنٹوں میں طوفان میں بدلنے کا خدشہ ہے۔
اگر یہ طوفان تشکیل پاتا ہے تو اس کا نام ’شکتی‘ رکھا جائے گا، جو سری لنکا کی جانب سے تجویز کیا گیا ہے اور اس کا مطلب “طاقت” ہے۔ محکمہ موسمیات نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ طوفان مزید شدت اختیار کرکے شدید سمندری طوفان میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ سسٹم اس وقت کراچی سے تقریباً 400 کلومیٹر جنوب میں موجود ہے، جس کے باعث سمندر میں طغیانی کا سلسلہ جاری ہے۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ طوفان 5 یا 6 اکتوبر تک بحیرہ عرب میں موجود رہ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے شدید طغیانی کے خطرے کے پیش نظر سندھ کے ماہی گیروں کو 3 اکتوبر تک سمندر میں نہ جانے کی ہدایت دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
سٹی 42: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔
توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت کے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے ممکنہ مہنگائی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
نوٹس متن کے مطابق مجوزہ نظام سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،توجہ دلاؤ نوٹس میں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
نوٹس میں صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا.