ایشیا کی دوسری بہترین ٹیم کے لقب پر افغان ٹیم کے کپتان ناراض
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
افغانستان کے کپتان راشد خان ایشیا کی دوسری بہترین ٹیم کے لقب پر مذاق اڑائے جانے سے نالاں ہیں۔
افغان ٹیم ایشیا کپ میں گروپ مرحلے سے باہر ہوگئی تھی اور اسے چیمپیئن بھارت کے بعد فیورٹ سمجھا جا رہا تھا، افغان پلیئرز نے پچھلے چند انٹرنیشنل ایونٹس میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی، پاکستان اور بنگلا دیش جیسی سائیڈز غیر یقینی نظر آرہی تھیں۔
راشد کی ٹیم بنگلا دیش سے سنسنی خیز میچ اور سری لنکا سے بڑی شکست کے بعد سپر فور مرحلے تک نہیں پہنچ سکی۔
افغان ٹیم کے کپتان نے کہا کہ ایک بات میڈیا میں بار بار چل رہی ہے کہ لوگ ہمیں ایشیا کی دوسری بہترین ٹیم کہتے ہیں، ہم نے کبھی یہ نہیں کہا لیکن گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہم نے عمدہ کارکردگی دکھائی۔
راشد خان نے کہا کہ ایشیا کپ، ورلڈ کپ کا سیمی فائنل اور ون ڈے ورلڈ کپ ہر ایونٹ میں ہم نے بڑی ٹیموں کو ہرایا، چیمپیئنز ٹرافی میں بھی انگلینڈ کو مات دی، اسی لیے ہمیں یہ ٹیگ ملا، مستقبل میں اگر ہم اچھی کارکردگی نہ دکھائیں تو یقیناً تیسرے، چوتھے یا پانچویں نمبر پر ہوں گے لیکن ایشین نمبر ٹو کا ٹائٹل ہم نے خود کو کبھی نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کبھی آپ اچھا کھیلتے ہیں تو کبھی برا، یہ کھیل کا حصہ ہے، سوچ ہمیشہ مثبت اور یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ بہتر کھیلیں، البتہ لوگ اس پر مذاق اڑاتے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ آج کل جتنا آپ کسی کا مذاق اڑائیں لوگ آپ کو اتنا پسند کرتے ہیں لیکن یہ اچھا نہیں لگتا۔
راشد خان کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ سے پہلے ہماری ٹیم نے زیادہ ٹی ٹوئنٹی میچز نہیں کھیلے جس کی وجہ سے ہم آہنگی میں کمی رہی، بولنگ اٹیک کنڈیشنز کے مطابق پرفارم نہیں کر سکا اور بیٹنگ بھی مقابلے کے معیار پر پوری نہ اتری، اب ہم اگلے سال کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاری پر مکمل طور پر فوکس کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹیم کے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔