پشاور سمیت مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش جاری رہنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
محکمہ موسمیات نے خیبرپختونخوا میں وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ خیبر پختونخواکے بیشترا ضلاع میں وقفے وقفے سے بارش جاری رہنے کاامکان ہے۔خیبر پختونخواکے بلند وبالا پہاڑی علا قوں میں بارش کے ساتھ بر ف باری کا امکان جاری رہے گا۔ چترا ل،دیر،سوات،شانگلہ،ہزار ہ اور مالاکنڈ ڈویثرن میں بارش کاامکان ہے۔پشاور،مردان،چارسدہ،کوہاٹ،کرک،ہنگو میں موسلا دھار بارش کاامکان ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ موسلا دھار بارش کے باعث مقامی ندی نالوں میں سیلا ب آنے کا خدشہ ہے۔پہاڑی علا قوں میں لینڈ سلا ئیڈنگ کے خدشات ہیں۔شہر پشاو ر کا کم سے کم درجہ حرارت 21اور ذیادہ سے ذیادہ 30ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کاامکان ہے۔گزشتہ جو بیس گھنٹوں کے دوران کاکول میں 16ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر سٹی 13،پشاور ائیر پورٹ ایریا8،بالاکوٹ4،چترال میں 3ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔دورش،کالام،تخت بائی،چیراٹ میں ایک ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔