ساحلی عوام ہوشیار، سمندری طوفان شدت اختیار کر سکتا ہے، الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سائیکلون وارننگ سینٹر کراچی نے کہا ہے کہ سمندر میں بننے والے طوفان کی صورتحال پر مسلسل کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور جیسے ہی کوئی نمایاں پیش رفت ہوگی، فوری طور پر عوام اور متعلقہ اداروں کو آگاہ کر دیا جائے گا۔
ترجمان محکمہ موسمیات کے مطابق تمام اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مکمل طور پر الرٹ رہیں اور عوام کو پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) کی جاری کردہ ایڈوائزریز کے ذریعے مسلسل معلومات فراہم کرتے رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندر میں موجود طوفان کسی بھی وقت شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے باعث ماہی گیروں کو خاص طور پر محتاط رہنے اور غیر ضروری طور پر سمندر میں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، حکام نے واضح کیا کہ ماہی گیروں اور ساحلی آبادیوں کی حفاظت کے لیے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر بالکل بھی توجہ نہ دیں بلکہ صرف محکمہ موسمیات اور سرکاری اداروں کی طرف سے جاری کردہ بیانات پر انحصار کریں۔
حکام کے مطابق غلط یا غیر مصدقہ اطلاعات پھیلنے سے خوف و ہراس میں اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے شہریوں کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
سائیکلون وارننگ سینٹر کے مطابق طوفان کی سمت اور شدت کے حوالے سے ہر لمحہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور متعلقہ اداروں کو بروقت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ حفاظتی اقدامات اٹھا سکیں۔
محکمہ موسمیات نے ساحلی عوام کے لیے حفاظتی تدابیر بتاتے ہوئے کہاکہ غیر ضروری طور پر سمندر کے قریب جانے سے گریز کریں، ماہی گیر طوفان کے دوران کشتیاں سمندر میں نہ لے جائیں، گھروں میں ایمرجنسی لائٹس، پینے کا پانی اور خشک خوراک ذخیرہ رکھیں، بجلی کے آلات اور کھلے تاروں سے دور رہیں، مقامی حکام اور محکمہ موسمیات کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں، کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔