وجے دیوراکونڈا اور رشميکا مندانہ کی منگنی ہوگئی، جَلد شادی کی خبریں زیرِ گردش
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
بھارتی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تامل انڈسٹری کے معروف فنکار جوڑے، اداکار وجے دیوراکونڈا اور رشميکا مندانہ کی منگنی ہو چکی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق وجے دیوراکونڈا اور رشميکا مندانہ کی شادی فروری 2026ء میں متوقع ہے، اس جوڑے کی منگنی ایک نجی تقریب میں انجام پاچکی ہے جس میں صرف قریبی رشتے دار اور دوست شریک ہوئے تھے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکار جوڑے نے اب تک اپنی منگنی اور شادی کا باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا ہے جبکہ اِن سے تعلق رکھنے والے متعدد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں نے ذاتی معاملات کو رازداری میں رکھنے کو ترجیح دی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق رشميکا مندانہ جب اپنی حالیہ وائرل انسٹاگرام پوسٹ میں ساڑھی زیب تن کیے نظر آئیں تو مداحوں نے خیال ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصاویر اِن کی منگنی کی تقریب کی ہیں۔
اداکارہ نے مذہبی تہوار کے موقع پر اپنی تصویریں شیئر کرتے ہوئے پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا کہ ’ہیپی دُسہرہ مائی لَوز، اس سال میں خود کو بے حد شکر گزار محسوس کر رہی ہوں، آپ کے پیغامات اور سپورٹ ہر لمحے کو مزید خوشگوار بنا دیتی ہے۔‘
واضح رہے کہ وجے اور رشميکا نے اب تک اپنے تعلق یا بننے والے نئے رشتے سے متعلق کوئی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔ اگرچہ اِن دونوں فنکاروں کی ایک ساتھ چھٹیاں گزارنے کی خبریں میڈیا میں آتی رہی ہیں مگر ہمیشہ اس جوڑی نے اپنی نجی زندگی کو خفیہ رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رشمیکا مندانہ بھارتی میڈیا اور رشمیکا کی منگنی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔