پاکستان کا مطالبہ ہے کہ ایک خودمختار، قابلِ عمل اور متصل فلسطینی ریاست قائم ہو ؛ دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک : ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ ایک خودمختار، قابلِ عمل اور متصل فلسطینی ریاست قائم ہو، جو 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، جیسا کہ بین الاقوامی قوانین اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خودمختار فلسطینی ریاست کا حامی ہے، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔ پاکستان کا مؤقف دوٹوک ہے کہ غزہ میں معصوم فلسطینیوں کے خون کا بہاؤ روکا جائے، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے، انسانی بنیادوں پر امداد کی بلا تعطل فراہمی یقینی ہو اور دیرپا امن کے لیے ایک بااعتماد سیاسی عمل کی راہ ہموار ہو۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات 16 اکتوبر کو منعقد ہوں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر حماس کے ردعمل کا خیر مقدم کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس پیش رفت کو سراہتا ہے، جس کے نتیجے میں فوری جنگ بندی اور غزہ میں امن کی بحالی کا موقع فراہم ہوا ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اسرائیل سے غزہ پر فوری طور پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ پاکستان غزہ میں امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہتا ہے اور مخلصانہ امید رکھتا ہے کہ اس کے نتیجے میں پائیدار جنگ بندی اور ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا امن قائم ہوگا۔
شاہدرہ : شوہر کا بیوی پر چھریوں سے حملہ، گلا کاٹنے کی کوشش
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اس عمل میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان فلسطینی کاز کی اصولی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ ان کی جائز جدوجہد میں بھرپور یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے تاکہ وہ اپنے ناقابلِ تنسیخ حق خودارادیت کو بروئے کار لا سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ترجمان دفتر خارجہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔