واشنگٹن ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 اکتوبر2025ء ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں جنگ بندی کے معاملے پر سرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے برس پڑے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق غزہ میں ممکنہ جنگ بندی سے متعلق امن منصوبے پر حماس کے ردعمل کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان تلخ گفتگو ہوئی، اس دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو سخت الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’پتا نہیں تم ہمیشہ اتنے منفی کیوں ہوتے ہو؟ یہ ایک کامیابی ہے، اسے قبول کرو‘۔

بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ فون کال جمعہ کے روز اس وقت ہوئی جب حماس نے امریکہ کے پیش کردہ جنگ بندی منصوبے پر اپنا جوابی مؤقف دیا، جس میں حماس نے منصوبے کے کچھ نکات کا خیرمقدم کیا اور بعض نکات پر مزید مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا، تاہم نیتن یاہو نے حماس کے ردعمل کو جشن منانے کے قابل نہیں قرار دیا، جس پر صدر ٹرمپ نے ناراضگی کا اظہار کیا، امریکی صدر نے کہا کہ ’مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کیوں کہ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے لیکن میں یہ سمجھ نہیں پاتا کہ تم ہر بار ہر معاملے کو منفی زاویے سے کیوں دیکھتے ہو؟‘۔

(جاری ہے)

امریکی اہلکار کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ ’صدر ٹرمپ کو لگتا تھا شاید حماس امن منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کر دے گی لیکن جب حماس نے کچھ نکات کی حمایت اور کچھ پر تحفظات کا اظہار کیا تو وہ خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوئے، اسی لیے اسرائیلی وزیراعظم کی بات سن کر گفتگو میں تلخی ہوئی لیکن بالآخر دونوں رہنماؤں میں کچھ حد تک اتفاق ہوا کیوں کہ صدر ٹرمپ خطے میں امن چاہتے ہیں اور یہی ان کی اولین ترجیح ہے‘۔                      .

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نیتن یاہو

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل