ریاض میں سالانہ فالکن اینڈ ہنٹنگ نمائش کا آغاز، پاکستان سمیت 45 ممالک کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
ریاض:
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے علاقے ملحم میں سعودی فالکن کلب کے زیرِ اہتمام سالانہ انٹرنیشنل فالکن اینڈ ہنٹنگ نمائش کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
نمائش میں 45 ممالک سے 1300 سے زائد عقابوں کے مالکان، اسلحہ ساز کمپنیوں اور شکاری سازوسامان کے ماہرین نے شرکت کی ہے۔
پاکستان، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی شرکاء کی جانب سے لائے گئے نایاب اور تربیت یافتہ عقاب اس نمائش کی خاص توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
ایک سعودی فالکن شوقین نے پاکستانی عقابوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ مضبوط، تیز اور کارآمد ہوتے ہیں اسی لیے سعودی عرب میں بہت پسند کیے جاتے ہیں۔
نمائش کے دوران عقابوں کی نیلامی کا سلسلہ بھی جاری ہے جہاں فالکن کے شوقین افراد ایک دوسرے سے بڑھ کر قیمتیں پیش کر رہے ہیں۔ بعض عقابوں کی قیمت لاکھوں ریال تک پہنچ چکی ہے۔
شکار کے شوقین افراد کے لیے جدید اور آٹومیٹک گنز کی نمائش بھی کی گئی ہے جبکہ شکاری سازوسامان بنانے والی متعدد بین الاقوامی کمپنیوں نے بھی اپنے اسٹالز لگائے ہیں۔
اس منفرد ایونٹ میں نایاب تصویری نمائش، قدیم گاڑیوں کی نمائش اور روایتی فنون بھی شامل کیے گئے ہیں جو دیکھنے والوں کو ماضی اور حال کا خوبصورت امتزاج فراہم کرتے ہیں۔
نمائش میں پاکستان کے وزیر آباد سے تعلق رکھنے والے ماہر کاریگروں کی تیار کردہ تلواریں، چھریاں اور چاقو بھی پیش کیے گئے ہیں۔
ان کاریگروں کا کہنا ہے کہ وہ کئی سالوں سے اس نمائش میں شرکت کر رہے ہیں، اور سعودی عرب میں پاکستانی ہنر کی بڑی مانگ ہے، جو ملکی مصنوعات کے فروغ کا ذریعہ بن رہا ہے۔
فالکن اینڈ ہنٹنگ نمائش 11 اکتوبر تک جاری رہے گی، جس میں روزانہ ہزاروں افراد کی آمد متوقع ہے۔ اس نمائش کو ثقافتی، تجارتی اور سیاحتی لحاظ سے خطے میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔