سڈنی: 60 سالہ شخص کی مصروف سڑک پر فائرنگ، 16 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک 60 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس نے اتوار کی شام شہر کے انر ویسٹ علاقے میں اپنی جائیداد سے مصروف سڑک پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
پولیس کے مطابق ملزم نے قریباً 50 گولیاں چلائیں، جس سے 16 افراد زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر کو معمولی زخم آئے۔
فائرنگ کے دوران پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر عمارت میں داخل ہو کر مشتبہ شخص کو حراست میں لیا، جبکہ موقع سے ایک رائفل برآمد کی گئی۔
مزید پڑھیں: امریکا: ڈلاس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ پر فائرنگ، 2 افراد ہلاک
پولیس نے بتایا کہ واقعے کا دہشتگردی یا گینگ سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ملا۔ ملزم کو معمولی زخموں کے علاج کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم ابھی تک اس پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس کمشنر میل لینین نے واقعے کو انتہائی سنگین اور خوفناک قرار دیا، جبکہ عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کی آوازیں کسی فلم کے منظر جیسی لگ رہی تھیں۔
آسٹریلیا میں بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات نایاب ہیں، کیونکہ 1996 کے بعد سے ملک میں خودکار اور نیم خودکار ہتھیاروں پر پابندی عائد ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا سڈنی فائرنگ نیو ساؤتھ ویلز پولیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔