درد کی عام دوائیں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں، ماہرین کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سر درد، جوڑوں کے درد یا جسمانی تکلیف سے نجات کے لیے عام طور پر لوگ جو دوائیں استعمال کرتے ہیں، وہی دل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق NSAIDs کہلانے والی یہ دوائیں ، جیسے Ibuprofen، Diclofenac، Naproxen، Celecoxib اور Ketoprofen،وقتی طور پر آرام ضرور دیتی ہیں مگر طویل مدت کے استعمال سے دل کے امراض بڑھ سکتے ہیں۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کے مطابق یہاں تک کہ ایک ہفتے کے مختصر استعمال سے بھی ہارٹ اٹیک یا اسٹروک کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
ان دواؤں کا بنیادی کام جسم میں موجود COX-2 انزائم کو روکنا ہے، جو درد اور سوزش میں کردار ادا کرتا ہے، مگر یہ عمل دل کے لیے نقصان دہ نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ یہ دوائیں خون کے دباؤ میں اضافہ، خون جمنے کی رفتار بڑھانے اور نالیوں کے سکڑنے کا باعث بنتی ہیں، جس سے دل پر دباؤ بڑھتا ہے اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی کو دل کا مرض لاحق ہے تو اسے کسی بھی درد کی دوا خود سے نہیں لینی چاہیے۔ خاص طور پر اگر مریض ڈسپرین جیسی خون پتلا کرنے والی دوا استعمال کر رہا ہے تو اسے بند کرنا نہایت خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ دوا دل کے لیے حفاظتی کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ درد کی صورت میں دواؤں پر انحصار کم کریں، قدرتی آرام، ہلکی ورزش اور ڈاکٹر کے مشورے سے علاج کریں تاکہ دل کو محفوظ رکھا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔