لداخ خطے میں حالات مسلسل کشیدہ، لہہ اور کرگل اضلاع میں سخت پابندیاں بدستور جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق خطے میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں، بھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے پورے خطے میں خوف و دہشت کی فضا پائی جاتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے لداخ خطے میں حالات مسلسل کشیدہ ہیں جہاں لہہ اور کرگل اضلاع میں سخت پابندیاں بدستور جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق خطے میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں، بھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے پورے خطے میں خوف و دہشت کی فضا پائی جاتی ہے۔مقامی تنظیموں کرگل ڈیموکریٹک الائنس اور لہہ اپیکس باڈی نے لداخ انتظامیہ کی طرف سے شہری ہلاکتوں کی مجسٹریل تحقیقات کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دونوں گروپوں نے بھارتی وزارت داخلہ کے ساتھ مجوزہ مذاکرات کا بھی بائیکاٹ کیا ہے۔ کے ڈی اے کے سینئر رہنما سجاد کرگلی نے ایک بیان میں کہا کہ لداخ کے لوگوں کو اسی جبر کا سامنا ہے جو کشمیر اور منی پور کے لوگ طویل عرصے سے برداشت کر رہے ہیں۔
دریں اثناء بھارت بھر میں ماہر ماحولیات سونم وانگچک سمیت بے گناہ مظاہرین کی رہائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور بھارت کے مختلف شہروں میں طلبا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن شہریوں کی نظربندی کو جمہوری اقدار پر حملہ قرار دے کر ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
سٹی 42: حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کردیا
حکومت کی جانب سے پیٹرول4روپے 40پیسے مہنگا کردیاگیاجبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3روپے 62پیسےا ضافہ کیا گیا ہے۔
پیٹرول کی نئی قیمت 331روپے 52پیسے ہوگئی،ڈیزل کی نئی قیمت 378روپے 66پیسے مقرر کردی۔
واضح رہے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پرتعین کیا جارہا ہے ۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی