موسم کی تبدیلی کے باوجود ڈینگی کے حملے جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
راولپنڈی میں موسم کی تبدیلی کے باوجود ڈینگی کے حملے جاری ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 20 شہری ڈینگی کا نشانہ بن گے ہیں۔
محکمہ صحت راولپنڈی کی رپورٹ کے مطابق شہر میں ڈینگی کے خلاف اقدامات جاری ہیں۔ اب تک 12 ہزار 564 افراد کے ڈینگی ٹیسٹ مکمل کیے گئے جبکہ 835 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی۔
66 مریض مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ ڈینگی سے اب تک کوئی نئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔ رواں سال اب تک 55 لاکھ 59 ہزار 692 گھر چیک کیے گے جن میں سے ایک لاکھ 73 ہزار 204 گھروں میں لاروا کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔
15 لاکھ 18 ہزار 623 مقامات کی جانچ مکمل کی گئی اور 23 ہزار 270 مقامات ڈینگی پازٹیو نکلے۔ مجموعی طور پر 1 لاکھ 96 ہزار 474 مقامات سے لاروا تلف کیا گیا۔
مزید برآں ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت کارروائیاں بھی کی گئیں۔ 4 ہزار 430 ایف آئی آرز درج، 1 ہزار 845 مقامات سربمہر، 3 ہزار 485 چالان اور 1 کروڑ 8 لاکھ 59 ہزار 7 روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں متاثرہ علاقوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ خیابانِ جنوب، CIR-3 میں نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ پنڈورہ دھوک کشمیریاں، CIR میں کیسز کی تصدیق ہوئی۔
علاوہ ازیں آفندی کالونی، ڈی اے وی کالج سٹی کالونی، CTR-10، بگا شیخاں، گنگت، دھما سیدان، دھمیال، لکھن (CTR-1)، کولوال، چک جلیل دین، گرچا (CTR-12) میں بھی کیسز رپورٹ ہوئے۔
ضلعی انتظامیہ کی اپیل ہے کہ گھروں میں پانی جمع نہ ہونے دیں۔ ڈینگی سے بچاؤ ممکن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
لاہور:دریائے چناب میں سیلابی صورتحال کے باعث تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جبکہ چنیوٹ میں سیم نہر میں 50 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے متعدد فصلیں زیر آب آگئیں۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق تریموں ہیڈ ورکس پر دریائے چناب میں پانی کی آمد ایک لاکھ 48 ہزار 650 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 36 ہزار 50 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے لیے چار فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
دوسری جانب، چنیوٹ میں جھنگ روڈ بائی پاس کے قریب کانجو موڑ پر سیم نہر میں تقریباً 50 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، جس کے نتیجے میں کئی ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں زیر آب آ گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث نہر میں پانی کا دباؤ بڑھا، جس سے شگاف پیدا ہوا۔
اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر، محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موقع پر پہنچ گئے، جبکہ نہر کے شگاف کو پر کرنے اور مزید نقصان سے بچاؤ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی جاری ہے۔
ادھر ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دریاوں کا بہاؤ مستحکم رہا۔
دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ تربیلا 3 لاکھ 42 ہزار، کالا باغ 3 لاکھ 9 ہزار اور چشمہ میں 2 لاکھ 93ہزار کیوسک ہے۔
مزید پڑھیںبھارت کی جانب سے آبی جارحیت، دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب، الرٹ جاری
پنجاب میں مون سون کا سلسلہ برقرار، مزید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں کمی ہو رہی ہے جس کے بعد سیلابی صورتحال اونچے سے درمیانے درجے پر آگئی ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے دجے کا سیلاب ہے۔
ہیڈ مرالہ کی مقام پر پانی کا بہؤ 2 لاکھ 8 ہزار، خانکی کے مقام پر 1 لاکھ 65 ہزار اور قادر آباد کے مقام پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 90 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 83 ہزار کیوسک ہے جبکہ جسڑ، شاہدرہ اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بہاؤ بھی نارمل ہے۔
نارروال نالہ بسنتر میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ ارا کینٹ بریج ناکہ ایک میں نچلے درجے اور وزیر آباد نالہ ایک میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
دوسری جانب، دریائے ستلج اور جہلم میں پانی کا بہاؤ نارمل ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ کے مطابق بالائی علاقوں میں بارشوں کے سبب دریاؤں کے بہاؤ میں اضافہ ہوا، دریائے چناب کے اپر کیچمنٹس میں بارشیں رک چکی ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں سے دریائے چناب میں بہاؤ مستحکم ہو چکا ہے۔
ڈی جی نے ہدایت کی کہ دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، حکومت پنجاب کی جانب سے ممکنہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انتظامات مکمل ہیں۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ موسم و سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔