Jasarat News:
2026-07-24@02:52:42 GMT

جماعت اسلامی کی سینئر صحافی طفیل رند کے قتل کی مذمت

اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے سیکرٹری اطلاعات مجاہدچنا نے ضلع گھوٹکی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ماتھیلو میں مقامی اخبار کے صحافی اور میرپور ماتھیلو پریس کلب کے جنرل سیکرٹری طفیل رند کے سفاکانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کرکے آئندہ اس طرح کے واقعات کا سدباب صحافیوں کو تحفظ اور لواحقین کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ صوبہ سندھ صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بنتا جارہا ہے صحافیوں کو ہراساں جھوٹے مقدمات معمول بنتے جارہے ہیں ،سکھرڈویژن میں گزشتہ 2سال کے دوران4 صحافیوں کا قتل صحافت دشمنی اوراظہار رائے کی آزادی کو دبانے کی کوشش ہے یہ صورتحال ملک اورصوبہ سندھ میں ٓزادی اظہار کے دعویدارحکمرانوں کے لیے لمحہ فکر ہے۔انہوں نے کہاکہ شہید نصراللہ گڈانی کا تعلق بھی اسی ضلعے سے تھا ،جان محمد مہر سے لے کر طفیل رند کے سفاکانہ قتل تک صحافی برادری میں سخت خوف و ہراس پیداہوگیا ہے۔مرادعلی شاہ حکومت سندھ میں صحافیوں کو تحفظ اورقاتلوںکو پکڑکرکیفرکردار تک پہنچانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔صوبائی رہنما نے سندھ حکومت سے پرزورمطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیرجانبدارنہ تحقیقات کرکے ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی