دریائوں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اکتوبر2025ء) تربیلا، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج، ان کی سطح اور بیراجوں میں پانی کے بہا ئوکی صورتحال حسب ذیل رہی۔دریائے سندھ میںتربیلاکے مقام پرآمد 45 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 45 ہزار 300 کیوسک، دریائے کابلمیںنوشہرہ کے مقام پرآمد 10 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 10 ہزار 500 کیوسک، خیرآباد پل آمد 30 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 30 ہزار 400 کیوسک،جہلم میںمنگلاکے مقام پرآمد 15 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 7 ہزار 100 کیوسک، چناب میںمرالہ کے مقام پر آمد 27 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 17 ہزار کیوسک رہا۔
جناح بیراج آمد 78 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 72 ہزار کیوسک، چشمہ آمد 85 ہزار 300 کیوسک اوراخراج 80 ہزار 100 کیوسک، تونسہ آمد 78 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 71 ہزار 600 کیوسک،گدوآمد 80 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 74 ہزار 200 کیوسک، سکھر آمد 82 ہزار کیوسک اور اخراج 37 ہزار 600 کیوسک، کوٹری آمد 74 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 54 ہزار 600 کیوسک، تریموں آمد 7 ہزار کیوسک اور اخراج صفر کیوسک، پنجند آمد 41 ہزار کیوسک اور اخراج 25 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔(جاری ہے)
آبی ذخائر میںتربیلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ،پانی کی موجودہ سطح 1550.00 فٹ،پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550 فٹ اورقابل استعمال پانی کا ذخیرہ 5.728 ملین ایکڑ فٹ،منگلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ،پانی کی موجودہ سطح 1241.90 فٹ،پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 7.268 ملین ایکڑ فٹ جبکہ چشمہ کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ،پانی کی موجودہ سطح 649.00 فٹ،پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 0.311 ملین ایکڑ فٹ رہا۔تربیلا اور چشمہ کے مقامات پر دریائے سندھ، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل اور منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد اور اخراج 24گھنٹے کے اوسط بہا ئوکی صورت میں ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کیوسک اور اخراج ہزار 600 کیوسک ہزار کیوسک کے مقام پر میں پانی فٹ پانی پانی کی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔