افغانستان کو بتانا ہو گا، دہشت گردی ناقابل برداشت، خواجہ آصف: بھارتی ہاتھ موجود، پرویز اشرف
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار+ نوائے وقت رپورٹ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بس بہت ہوگیا، اب افغانستان سے بات کرنا ہوگی، افغانستان کو بتانا ہوگا کہ دہشتگردی اب ناقابل برداشت ہے۔ قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ سیاست ہوتی رہے گی یہ مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے، ایک وفد کو افغان حکام سے بات کرنے کے لیے کابل بھیجنے کی تجویز دی گئی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ان لوگوں کو بھی جواب دینا ہوگا، جو ان لوگوں کو محفوظ پناہ گاہ دے رہے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ہم اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، جو ان واقعات کی مذمت تک نہیں کرتے، یہ عمل قابل قبول نہیں ہے، ہمارے بچے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور یہاں سیاسی دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پر فرض بنتا ہے کہ پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنے اختلافات کو ختم کر کے انہیں سپورٹ کریں، ہماری افواج نے جس طرح بھارت کو شکست دی ہے، وہ آج بھی اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔ وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ افواج پاکستان کی وجہ سے ممکن ہوا اور پاکستان کو دنیا بھر میں ایک نیا مقام ملا، یہ صرف اور صرف جانوں کی قربانیوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے، اس ایک ایشو پر ہمیں یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے، پاکستان کی حفاظت، پاکستان کا وجود اول ہے، باقی سارے مسائل بعد میں آتے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ہم نے افغانستان کو کہا چھ سے سات ہزار افراد کو کنٹرول کریں۔ افغانستان نے کہا ہمیں دس ارب روپے دیں، ہم انہیں مغربی علاقوں میں منتقل کر دیتے ہیں۔ خواجہ آصف نے بتایا کہ ہم نے کہا کیا گارنٹی ہے یہ لوگ مغربی علاقوں سے واپس نہیں آئیں گے؟۔ افغانستان گارنٹی دینے کیلئے تیار نہیں تھا۔ ہمارے ملک میں ایسے لوگ ہیں جو دہشتگردی کی کھل کر مذمت نہیں کرتے۔ معرکہ حق میں مسلح افواج نے اپنی طاقت کا لوہا منوایا ہے۔ فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج نے بھارت کے خلاف تاریخی فتح حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف فتح سے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا۔ دہشتگردوں کیلئے کوئی نرم گوشتہ اور رعایت قابل برداشت نہیں۔ پاکستان اور فوج کی عزت و وقار سب سے آگے ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان میں مقیم افغانی یہاں کاروبار کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارا کھاتے ہیں اور ہمارے خلاف ہی دشمن کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہ جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان میں جو بھی دہشتگردی ہو رہی ہے اس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ناعاقبت اندیش لوگ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنا شروع کر دیتے ہیں اور ان کی باتوں میں آکر اپنی افواج اور اداروں کی خلاف باتیں کرتے ہیں۔ یہ ہمارے بیٹے ملک پر قربانیاں دیتے ہیں۔ اس قوم کو کوئی دہشتگرد ڈرا نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی طاقت شکست دے سکتی ہے۔ راجا پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے اختلاف ضرور ہو سکتے ہیں تاہم جب پاکستان کے خلاف کوئی بات تو ہم سب ایک ہو جاتے ہیں جس پر کسی کو اختلاف نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے دیتے ہیں
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔