ہر ’بیٹی‘ کے آنے سے زندگی میں برکت بڑھی، منیب بٹ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے معروف اداکار منیب بٹ نے اپنی بیٹیوں کو زندگی کی سب سے بڑی نعمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ہر بیٹی ان کے لیے خوشیوں اور کامیابیوں کا باعث بنی۔
منیب بٹ نہ صرف اپنی شاندار اداکاری کے باعث مداحوں کے دلوں میں جگہ رکھتے ہیں بلکہ اپنی خوبصورت فیملی کے ساتھ ان کی محبت بھری تصویریں اور ویڈیوز بھی لوگوں کو بے حد پسند آتی ہیں۔
ان کی اہلیہ، معروف اداکارہ ایمن خان، پاکستان کی سب سے زیادہ فالو کی جانے والی سیلیبریٹیز میں شامل ہیں۔ اس جوڑے کی تین پیاری پیاری بیٹیاں امل، میرال اور نیمل ہیں۔
حال ہی میں زارا نور عباس کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے منیب بٹ نے انکشاف کیا کہ جب سے وہ بیٹیوں کے باپ بنے ہیں، ان کی زندگی میں بے پناہ خوشیاں آئی ہے۔ ان کے مطابق، ہر بیٹی کی آمد نے ان کی دنیا کو مزید روشن کر دیا۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، جس سال میرے گھر بیٹی ہوئی اس سال اللہ نے میرے رزق اور کامیابیوں میں اضافہ کیا۔ ہر نئی بیٹی کے ساتھ مجھے کسی نہ کسی بڑی کامیابی یا نئے موقع کا سامنا ہوا۔
منیب بٹ نے بتایا کہ ان کے کیریئر کے اہم سنگ میل کامیاب ڈرامے، نئے پروجیکٹس، اور مالی ترقی ہمیشہ انہی ادوارمیں آئے جب ان کی بیٹیاں پیدا ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی نیمل بٹ کی پیدائش کے بعد بھی زندگی میں خوشیوں اور برکتوں کی ایک نئی لہر آئی ہے۔
منیب بٹ کے مطابق، بیٹیاں واقعی اللہ کی رحمت ہیں اور ان کے آنے سے گھر میں محبت، سکون اور کامیابی سب بڑھ جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر مداحوں نے بھی ان کے اس جذبے کو بے حد سراہا اور کئی صارفین نے لکھا کہ“ایسے والد ہی اصل ہیرو ہوتے ہیں جو بیٹیوں کو نعمت سمجھتے ہیں۔“
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔