میرٹھ: کروڑوں روپے مالیت کا بیل ’ودھایک‘ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
بھارتی شہر میرٹھ میں قائم آئی آئی ایم ٹی یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے تین روزہ آل انڈیا فارمرز فیئر میں آٹھ کروڑ بھارتی روپے (25 کروڑ پاکستانی روپے مالیت سے زیادہ) مالیت کے بیل نے میلہ لوٹ لیا۔
’ودھایک‘ نامی بیل نے میلے میں ملک بھر سے آئے تمام کسانوں اور جانور پالنے والوں کی توجہ کھینچ لی۔
کالے رنگ کے اس بیل کے مالک پدما شری ایوارڈ یافتہ نریندرا سنگھ ہیں جن کا تعلق ہریانہ سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ودھایک اپنے نام کی طرح ہے۔ جسامت میں مضبوط اور ظاہر میں متاثر کن اور بے مثال ہے۔ یہ مراہ نسل کا ہے۔
میلے میں ہریانہ، پنجاب، دہلی، اترکھنڈ، راجھستان اور مدھیا پردیش کے کسانوں نے حصہ جو اپنے ساتھ اپنے بہترین جانور لے کر آئے تھے۔ لیکن ودھایک کے تمام توجہ اپنی جانب کرلی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔