سابق بھارتی کرکٹر منوج تیواری نے کہا ہے کہ نئے ہیڈ کوچ گوتم گھمبیر ویرات کوہلی، روہت شرما اور دیگر سینئر کھلاڑیوں کو ریٹائر ہونے پر مجبور کر رہے ہیں۔

منوج تیواری نے ایک بھارتی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی ٹیم کی انتظامیہ کے حالیہ فیصلوں میں سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ویرات کوہلی نے ٹیسٹ کرکٹ کیوں چھوڑی ہوگی؟ اس نے انگلینڈ کی سیریز کے لیے پہلے ہی سے تیاری شروع کر دی تھی لیکن ماحول نے اسے یہ احساس دلوایا کہ ٹیم میں اس کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے۔

سابق بھارتی کرکٹر نے مزید کہا کہ جب ایک کھلاڑی کو لگتا ہے کہ اس کی ٹیم میں ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اس کی عزت ہے تو کھلاڑی کبھی اپنا کیریئر جاری نہیں رکھ سکتا۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہتی ہے تو روہت شرما بھی جلد ریٹائرمنٹ لینے پر غور کر سکتے ہیں۔

منوج تیواری نے شبھمن گل کی بطور کپتان ترقی کے وقت پر بھی سوال اٹھایا۔

اُنہوں نے کہا کہ وہ واضح طور پر تمام فارمیٹس میں ایک ہی کپتان چاہتے ہیں، لیکن ابھی کیوں جب روہت شرما ٹیم کی اچھی قیادت کر رہے تھے؟

سابق بھارتی کرکٹر نے کہا کہ ویرات اور روہت دونوں نے بھارتی کرکٹ کے لیے جو کچھ کیا ہے اس کے بعد ان کے ساتھ ایسا سلوک ان کی بے عزتی کرنے سے کم نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: منوج تیواری کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا