ایئرانڈیا سے پرواز موت کا سفر بن گئی، بھارتی پائلٹس کا بوئنگ طیارے گراؤنڈ کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
بھارتی پائلٹس کی تنظیم فیڈریشن آف انڈین پائلٹس نے مبینہ فنی خرابیوں کے بعد تمام بوئنگ 787 طیاروں کو فوری طور پر گراؤنڈ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مطالبہ ایئر انڈیا کی 2 پروازوںAI-154 (ویانا تا دہلی) اور AI-117 (برمنگھم) میں تکنیکی مسائل کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا۔
#BREAKING | Emergency turbine deploys on Air India flight to UK, plane lands safely; Pilots' body seeks Boeing's audit
NDTV's @VishnuNDTV brings you the details pic.
— NDTV (@ndtv) October 5, 2025
تنظیم کے مطابق ان واقعات سے ایئر انڈیا کی سروس کے معیار پر سوالات اٹھتے ہیں، جبکہ ذمہ داری مبینہ طور پر نئے بھرتی شدہ انجینئرز پر ڈالی گئی ہے۔
تاہم ایئر انڈیا نے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسافروں اور عملے کی سلامتی ادارے کی اولین ترجیح ہے۔
ترجمان کے مطابق ویانا سے دہلی جانے والی پرواز دبئی میں حفاظتی طور پر اتاری گئی، جہاں مسافروں کو سہولیات فراہم کی گئیں اور وہی طیارہ بعد میں دہلی پہنچا۔
ایئر انڈیا نے مزید وضاحت کی کہ برمنگھم پرواز میں RAT (Ram Air Turbine) کا ازخود کھل جانا ’غیر معمولی مگر پہلے سے رپورٹ شدہ تکنیکی مظہر‘ تھا، جس سے کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:ایئر انڈیا کی پروازوں میں بار بار فنی مسائل، مسافروں کا اعتماد متزلزل
ایئر انڈیا کے مطابق تمام نظام معمول کے مطابق کام کر رہے تھے اور طیارہ محفوظ لینڈنگ کرنے میں کامیاب رہا۔
ایئر لائن نے واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ ڈی جی سی اے (DGCA) کو جمع کرا دی ہے اور طیارے کو دوبارہ پرواز کی اجازت مل گئی ہے۔
پائلٹس تنظیم نے اپنی خط و کتابت میں جون 2025 کے AI-171 حادثے کا بھی حوالہ دیا، جس میں 260 افراد جاں بحق ہوئے تھے، اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ بوئنگ 787 طیاروں میں ممکنہ خامیوں کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایئرانڈیا بوئنگ 787 بوئنگ طیارہ پائلٹس تنظیم فیڈریشن آف انڈین پائلٹس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئرانڈیا بوئنگ طیارہ پائلٹس تنظیم ایئر انڈیا کے مطابق
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔