تحریک لبیک کے احتجاج سے اسلام آباد میں زندگی مفلوج، باپ بیمار بچی کو اٹھائے بھاگتا رہا، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاجی مارچ کے باعث لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں حالات نہایت کشیدہ ہو گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کے پیش نظر شہر کے اہم داخلی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے، جب کہ شہریوں کو آمد و رفت میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) پر ایک صارف کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو نے موجودہ صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کر دیا۔
ویڈیو میں ایک شخص کو اپنی شدید بیمار بچی کو رات کے اندھیرے میں پیدل اٹھائے اسپتال کی جانب بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
خدا کا خوف کریں یہ اسلام آباد کی سڑکیں کھولیں، ایک باپ اپنی شدید بیمار بچی کو رات کی اس تاریکی میں پیدل اٹھائے بھاگتا ہوا ابھی ملا بچے کو ایمرجنسی اسپتال پہنچانا تھا، اس ملک پر اللہ کیلئے رحم کھا لیں، مظاہرین لاہور میں ہیں تو یہاں کیوں لوگوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے؟ pic.
— Adil Tanoli (@adiltanoli99) October 10, 2025
صارف نے ویڈیو کے ساتھ پیغام لکھا کہ ’خدا کا خوف کریں، یہ اسلام آباد کی سڑکیں کھولیں۔ ایک باپ اپنی بیمار بچی کو ایمرجنسی اسپتال لے جانے کے لیے پیدل دوڑ رہا ہے۔ مظاہرین لاہور میں ہیں، تو یہاں کیوں لوگوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے؟‘
Saad Rizvi from container is instructing TLP workers to besiege the police officials and surround them from all sides and to not let them go. This is sheer terrorist against the state and taking law in the hands. The state must crackdown ruthlessly against these morons. pic.twitter.com/vdRn7oUZx1
— Wajahat Kazmi (@KazmiWajahat) October 11, 2025
اسلام آباد اور راولپنڈی میں راستوں کی بندش کے باعث دفاتر، تعلیمی اداروں اور اسپتالوں تک رسائی بری طرح متاثر ہوئی ہے، جب کہ شہریوں نے حکومت سے فوری طور پر حالات معمول پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بیمار بچی کو اسلام آباد
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔