اے آئی امیجنگ میں انقلاب، مائیکروسافٹ کا ایم اے آئی امیج ون تخلیقی دنیا کے لیے نیا موڑ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
مائیکروسافٹ نے اپنا پہلا ان ہاؤس مصنوعی ذہانت پر مبنی امیج جنریٹر ایم اے آئی امیج ون (MAI-Image-1) متعارف کروا دیا ہے، جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ رفتار، معیار اور حقیقت پسندی کے لحاظ سے اوپن اے آئی کے سورا اور گوگل کے نینو بنانا ماڈلز سے بہتر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مائیکروسافٹ کا نیا اے آئی ماڈل صارفین کی سیکیورٹی کے لیے خطرناک ہے؟
مائیکروسافٹ کے مطابق یہ نیا ماڈل فوٹو ریئلسٹک تصاویر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو روشنی، عکس، بناوٹ اور قدرتی مناظر کو نہایت حقیقت سے قریب انداز میں ظاہر کرتا ہے۔ مائیکروسافٹ کا دعویٰ ہے کہ ایم اے آئی امیج ون نہ صرف تیزی سے نتائج فراہم کرتا ہے بلکہ کئی بڑے اے آئی ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور کم توانائی استعمال کرنے والا ہے۔
ماڈل کی تیاری کے دوران مائیکروسافٹ نے پیشہ ور فوٹوگرافروں اور ڈیزائنرز سے براہِ راست فیڈبیک حاصل کیا تاکہ تصاویر زیادہ قدرتی، جاندار اور تخلیقی نظر آئیں — بجائے اُن مصنوعی انداز کی تصویروں کے جو عام طور پر اے آئی پلیٹ فارمز تیار کرتے ہیں۔
مائیکروسافٹ کا یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب کمپنی آہستہ آہستہ اوپن اے آئی پر اپنا انحصار کم کر رہی ہے۔ فی الحال اے آئی امیجنگ کے میدان میں اوپن اے آئی اور گوگل دو نمایاں کھلاڑی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے ویڈیو کی تخلیق، اوپن اے آئی نے سورا 2 لانچ کردیا
اوپن اے آئی نے حال ہی میں اپنی سورا ایپ ایپل کے ایپ اسٹور (امریکا اور کینیڈا) میں متعارف کرائی ہے، جو صارفین کو اے آئی کی مدد سے ویڈیوز بنانے اور شیئر کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، جبکہ گوگل کا نینو بنانا ماڈل پاکستان اور بھارت سمیت کئی ممالک میں تخلیقی تجربات کے لیے خاصا مقبول ہو رہا ہے۔
ایسے میں مائیکروسافٹ کا ایم اے آئی امیج ون میدان میں آنا کمپنی کے لیے ایک خودمختار اور جدت پر مبنی اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل پہلے ہی عالمی اے آئی بینچ مارک پلیٹ فارم ایل ایم ارینا (LMArena) پر دنیا کے ٹاپ 10 ماڈلز میں شامل ہو چکا ہے، جہاں صارفین مختلف ماڈلز کی تصاویر کا موازنہ کر کے بہترین کو ووٹ دیتے ہیں۔
ایم اے آئی امیج ون مائیکروسافٹ کے تین خود تیار کردہ اے آئی ماڈلز میں سے ایک ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی نے اپنے مائیکروسافٹ 365 فیچرز میں اینتھروپک (Anthropic) کے ماڈلز کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیگما اور گوگل میں شراکت، جیمنی اے آئی اب ڈیزائن پلیٹ فارم کا حصہ
فی الحال یہ نیا ماڈل صرف ایل ایم ارینا پر دستیاب ہے، تاہم مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ جلد ہی اسے کو پائلٹ (Copilot) اور بنگ امیج کریئیٹر (Bing Image Creator) میں بھی شامل کیا جائے گا تاکہ زیادہ صارفین اس نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ماہرین کے مطابق مائیکروسافٹ کا یہ قدم اس بات کا اظہار ہے کہ کمپنی اب اپنی آزاد اے آئی شناخت قائم کرنے کے سفر پر گامزن ہے۔ اگر ایم اے آئی امیج ون اپنے دعووں پر پورا اترا تو یہ تخلیقی شعبے کے لیے ایک حقیقی انقلاب ثابت ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
MAI-Image-1 we news اوپن اے آئی گوگل مائیکروسافٹ اے آئی نینو بنانا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی گوگل مائیکروسافٹ اے ا ئی ایم اے آئی امیج ون مائیکروسافٹ کا اوپن اے آئی اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔