قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہﷺ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
(اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے) جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سنیں جب وہ اْس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہو جاؤ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے۔ انہوں نے جا کر کہا، ’’اے ہماری قوم کے لوگو، ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰؑ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف۔ (سورۃ الاحقاف:29تا30)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ اللہ تعالیٰ اہل زمین میں اپنی شرط پوری نہیں کر لے گا، پھر صرف ایسے ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے، جن کو نہ نیکی کی معرفت ہو گی اور نہ وہ برائی کو برا سمجھیں گے۔ (مسند احمد)٭ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو قطعیت کے ساتھ (اصرار کرتے ہوئے) دعا کرے اور یہ نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے دے دے، کیونکہ اللہ کو مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ (مسلم)
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چھینک اور جماہی کے آداب
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چھینک آنا اچھی بات ہے، چھینک انسان کی صحت کی علامت ہے، نزلے کے وقت، نیز عام اوقات میں بھی جب چھینک آتی ہے تو انسان کا دماغ، کان اور ناک کے راستے صاف ہوتے ہیں، آنکھوں میں ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے، سر کا بوجھ کم ہوجاتا ہے، جب نومولود بچہ چھینکتا ہے تو والدین اور معالجین چھینک کو بچے کی تندرستی کی علامت سمجھ کر خوش ہوجاتے ہیں، غرض کہ چھینک انسان کی نشاط وچستی کا سبب ہے، جس سے انسان کو اعمال وطاعات، نیز دنیوی کاموں میں نشاط پیدا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی علیہ السلام نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتے ہیں (رواہ البخاری عن ابی ہریرة)، کیوں کہ اعمال میں چستی ونشاط کا سبب ہوتی ہے۔
دین ِاسلام کی خوبی اور کمال یہ ہے کہ اسلام انسان کو کامل واکمل بنانے کے لیے ہر چھوٹے اور بڑے ادب سے اس کو آراستہ ومزین کرتا ہے۔ اسلام نے انسانی ضروریات میں سے ہر ضرورت سے متعلق بہترین آداب وتعلیمات کو پیش کیا ہے، من جملہ ان کے چھینک ہے، جسے ہم معمولی چیز سمجھتے ہیں، اس کے آداب کو بھی بیان کیا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم چھینک کے آداب کو معلوم کریں اور ان پر عمل کریں۔
چونکہ چھینک اللہ کی نعمتِ صحت وتندرستی کی علامت، چستی اور نشاط کا سبب ہے، اس لیے چھینک آنے پر الحمدللّٰہ کے ذریعے اللہ کا شکر ادا کرنے کو مستقل عبادت قرار دیا گیا ہے۔
رسولؐ نے فرمایا:
جب تم میں سے کوئی چھینکے تو الحمد للّٰہ کہے (رواہ البخاری عن ابوہریرہ)۔
چھینک کے آداب
(1) جب کسی شخص کو چھینک آئے تو الحمدللّٰہ کہے (رواہ البخاری عن ابی ھریرہ) یا اَلْحَمْدُ لِلہِ عَلیٰ کُلِّ حَال کہے (رواہ الترمذی عن ابن عمر)، دونوں صورتیں جائز ہیں۔
(2) جب چھینکنے والا اپنی چھینک پر الحمد للّٰہ کہے، تو سننے والا اس کے جواب میں یرحمک اللّٰہ کہے (بخاری)۔
(3) یرحمک اللّٰہ کے جواب میں چھینکنے والا یَھْدِیْکُمُ اللّٰہُ َویُصْلِحُ بَالَکُمْ یا یَغْفِرُاللہُ لَنَا وَلَکُمْ کہے (بخاری)۔
(4) چھینکنے والا چھینک کے وقت اپنے چہرے کو کپڑے یا کم از کم ہاتھ سے ڈھانک لے (تاکہ چھینک کے وقت ناک اور منہ سے نکلنے والی ریزش سے کسی کو تکلیف نہ ہو، نیز کھانے پینے کی چیزوں میں ناک اور منہ کی رطوبات نہ گریں)۔
(5)چھینک کے وقت اپنی آواز کو پست رکھے۔
آپ علیہ السلام چھینک کے وقت اپنے چہرے کو کپڑے یا ہاتھ سے ڈھانک لیتے تھے اور آواز کو پست کر لیا کرتے تھے (ابوداؤد)۔
(6) محرم عورتیں چھینک کر الحمدللہ کہیں تو محرم مردوں کے لیے یرحمک اللّٰہ کہنا ضروری ہے، نیز مرد محارم کی چھینک کا جواب دینا بھی ضروری ہے (ہندیہ)۔
چھینک کا جواب
مسلمان بھائی چھینک کر الحمدللّٰہ کہے تو اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا یہ اس کا شرعی حق ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان بھائی پر دوسرے مسلمان بھائی کے لیے چھ حقوق ہیں: (۱)جب کوئی مسلمان بھائی بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے، (2)جب کسی مسلمان کی وفات ہوجائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرے، (3)اگر دعوت دے تو قبول کرے، (4)سلام کرے تو سلام کا جواب دے، (5)چھینک پر الحمدللّٰہ کہے تو اس کے جواب میں یرحمک اللّٰہ کہے، (6)مسلمان بھائی کی موجودگی اور غیر موجودگی میں اس کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ کرے (مسلم، حقوق المسلم)۔
جب چھینکنے والا الحمدللّٰہ کہے تو سننے والے پر یرحمک اللہ کہنا بعض علما کے نزدیک واجب ہے، (فتاوی ہندیہ میں یہی قول نقل کیا ہے) بعض علما نے مستحب قرار دیا ہے، جمہور علما کے نزدیک فرضِ کفایہ ہے، (فتاوی ہندیہ میں واجب لکھا ہے) لہٰذا چھینکنے والے کی الحمدللّٰہ سننے والا ایک شخص ہو تو ضرور یرحمک اللّٰہ کہنا چاہیے، اگر ایک جماعت ہو تو ان میں سے کسی ایک شخص کی طرف سے یرحمک اللّٰہ کہنا کافی ہے (عمدۃ القاری)۔
مندرجہ ذیل مواقع میں چھینک کا جواب ضروری نہیں:
(1)جو آدمی چھینک کر الحمدللہ نہ کہے (بخاری)۔
آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمدللہ کہے تو تم جواب دو، اگر وہ الحمدللہ نہ کہے تو اس کا جواب مت دو (رواہ البخاری)، لہذا جو شخص اپنی چھینک پر الحمدللہ نہ کہے وہ جواب کا مستحق نہیں ہے۔
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو شخص حاضر تھے، دونوں کو چھینک آئی، آپ ؐ نے ایک شخص کی چھینک پر یرحمک اللّٰہ فرمایا، دوسرے کی چھینک پر یرحمک اللّٰہ نہیں فرمایا۔ اس پر دوسرے شخص نے عرض کیا، یارسول اللہ! آپ نے اس کے لیے یرحمک اللّٰہ فرمایا، میرے لیے نہیں فرمایا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اس نے چھینک پر الحمدللّٰہ کہا؛ اس لیے وہ جواب کا مستحق ہوا اور تم نے اپنی چھینک پر الحمدللّٰہ نہیں کہا تو تم جواب کے مستحق نہیں ہوئے (متفق علیہ)۔
(2)جب آدمی تین مرتبہ سے زیادہ چھینکے، تو جواب دینا ضروری نہیں ہے، چاہے تو جواب دے، چاہے تو جواب نہ دے (رواہ ابوداؤد)۔
(3)بے ایمان کی چھینک کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا جائز نہیں ہے۔
سیدنا ابوموسیؓ فرماتے ہیں:
یہودی لوگ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی خدمت میں چھینکتے تھے (چھینک پر الحمدللہ بھی کہتے) اور یہ امید رکھتے کہ آپ علیہ السلام جواب میں یرحمک اللہ فرمائیں گے؛ لیکن آپ علیہ السلام ان کے جواب میں یرحمک اللّٰہ نہ فرماتے (اس لیے کہ وہ اپنی بے ایمانی کی وجہ سے اللہ کی رحمت کے مستحق نہیں ہیں، لہٰذا ان کو رحمت کی دعا نہیں دی جاسکتی) بلکہ ان کے جواب میں آپ علیہ السلام یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ فرماتے (اللہ تم کو ہدایت دیں اور تمہارے احوال درست فرمائیں) (رواہ ابوداؤد)۔
(4) جمعہ وعیدین کے خطبات کے وقت میں جواب نہ دے (عمدۃ القاری)۔
(5)اگر کوئی شخص بیت الخلا میں چھینک کر الحمد للّٰہ کہے تو اس کا جواب بھی لازم نہیں (عمدۃ القاری)۔
مسئلہ:اگر کسی شخص کو نماز میں چھینک آگئی اور اس نے بے اختیار الحمد للّٰہ کہہ دیا تو نماز فاسد نہیں ہوگی، جو نمازی چھینکنے والے کے جواب یرحمک اللہ کہے، اس کی نماز فاسد ہوجائے گی (ہدایہ)۔
جماہی کے آداب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتے ہیں اور جماہی کو ناپسند فرماتے ہیں۔ جماہی شیطان کی طرف سے ہے لہٰذا جہاں تک ہوسکے اس کو روکے، جب (تم میں سے کسی کو جماہی آتی ہے اور) وہ منہ کھولے ہاء، ہاء کہتا ہے تو شیطان ہنستا ہے (رواہ البخاری عن ابی ھریرہ)۔
جماہی زیادہ کھانے، آنتوں کے بھر جانے، نفس وطبیعت کے بوجھل ہو جانے اور حواس کی کدورت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، جو غفلت، سستی اور سوئے فہم کا سبب بنتی ہے، نیز جماہی کے وقت انسان کا چہرہ طبعی حالت پر باقی نہیں رہتا ہے، جس کی وجہ سے شیطان خوش ہو جاتا ہے کہ انسان کی طبعی حالت بھی متغیر ہوئی، نیز اب یہ انسان طاعات واعمال اور دیگر ضروری امور میں سستی اور کاہلی کا شکار ہوگا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ رسولؐ کو عمر بھر جماہی نہیں آئی ہے، جس کی صراحت مصنف ابن شیبہ کی روایت میں موجود ہے۔ نیز علامہ خطابی رحمہ اللہ علیہ نے مسلم کی روایت سے بیان کیا ہے کہ کسی بھی نبی کو جماہی نہیں آئی (فتح الباری)۔
جماہی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو جہاں تک ہوسکے اس کو دفع کرے (بخاری)۔ یعنی جبڑوں کو مضبوطی سے دبالے، اگر بے قابو ہو جائے تو منہ پر ہاتھ رکھ لے۔
سیدنا ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا:
جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے، اس لیے کے شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے (رواہ مسلم)۔ لہٰذا منہ پر ہاتھ رکھے۔
علما نے لکھا ہے کہ اگر انسان تلاوت، دینی گفتگو وغیرہ میں مشغول ہو اور جماہی آجائے تو جماہی کو مکمل طور سے بند ہوجانے کے بعد تلاوت کرے، جماہی کے وقت ہا، ہا، کرتے ہوئے تلاوت، دینی باتیں اور ضروری باتیں نہ کرے۔
مولانا عبد اللطیف قاسمی
گلزار