پنجاب حکومت کا انتہا پسندی میں ملوث جماعت پر پابندی کی سفارش کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
لاہور (نیوزڈیسک) پنجاب حکومت نے انتہا پسندی میں ملوث جماعت پر پابندی کی سفارش کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان پر غیر معمولی اجلاس ہواجس میں متعدد فیصلے کئے گئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے گا، پولیس افسران کی شہادت اور املاک کی تباہی میں ملوث افراد پر دہشت گردی کے مقدمات چلیں گے۔
پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا کہ انتہا پسندی میں ملوث جماعت کی قیادت کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا، جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کے حوالے ہوں گے، ان کے پوسٹرز، بینرز اور اشتہارات پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی، جبکہ بینک اکاؤنٹس منجمد اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیئے جائیں گے، لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت ترین کارروائی ہوگی۔
صوبائی حکومت نے افغان شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا، جبکہ غیرقانونی مقیم غیر ملکیوں کیخلاف کومبنگ آپریشن بھی کیا جائے گا۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خلاف بھی سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، غیر قانونی اسلحہ کی فوری بازیابی کا حکم دے دیا، اسلحہ فروخت کرنے والے تمام ڈیلرز کے سٹاک کا معائنہ کیا جائے گا، غیر قانونی اسلحہ رکھنا ناقابل ضمانت جرم ہے، غیرقانونی اسلحہ رکھنے پر 14 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت کیا جائے گا فیصلہ کیا حکومت نے میں ملوث کا فیصلہ
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔