لاہور:

مذہبی جماعت کے جاں بحق ہونے والے کارکنوں کی لاشیں لینے اور زخمیوں کے اسپتالوں سے علاج معالجے کے لیے درخواست  پر سماعت ہوئی۔

ہائیکورٹ نے درخواست پر عائد اعتراض ختم کر دیا اور رجسٹرار آفس کو درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔ واضح رہے کہ رجسٹرار آفس نے درخواست پر درست اتھارٹی لیٹر نہ لگانے کا اعتراض لگایا تھا ۔

بعد ازاں جسٹس شہرام سرور چوہدری نے مذہبی جماعت کی درخواست پر سماعت کی ، جو عثمان نسیم ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی۔ درخواست میں وفاقی حکومت ،لاہور پولیس سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا  ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مریدکے میں مذہبی جماعت کے پر امن مارچ پر پولیس کی جانب سے آپریشن کیا گیا۔ مریدکے میں انتظامیہ کے ساتھ 36 گھنٹے مذکرات کے لیے انتظار کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے بکتر بند گاڑیوں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے کارکنان پر تشدد کیا گیا۔

عدالت میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر سے مذہبی جماعت کے کارکنوں پر سیدھی گولیاں برسائی گئیں۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ سے 600 کارکنان جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس اور رینجرز نے کئی لاشیں نالے میں پھینکیں، متعدد لاشیں جلا دی گئیں۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پولیس کی جانب سے جاری کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا جائے۔ مذہبی جماعت کو مرید کے سے لاشیں اٹھانے ، زخمیوں کو اسپتال لے جانے کی اجازت دی جائے۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مذہبی جماعت کے درخواست میں کیا گیا

پڑھیں:

وادی کشمیر میں جماعتِ اسلامی کشمیر سے منسلک مختلف مقامات پر چھاپے

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن حساس انٹیلی جنس ان پُٹس کی بنیاد پر کیا جارہا ہے، جس کا مقصد امن و قانون کی صورتحال کو مزید مضبوط بنانا اور ممنوعہ تنظیموں کی سرگرمیوں پر قدغن لگانا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان میں آج صبح سے پولیس کی جانب سے بڑے پیمانے پر تلاشی اور چھاپہ ماری کی کارروائیاں جاری ہیں۔ یہ کارروائیاں نام نہاد غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (UAPA) کے تحت ممنوعہ تنظیم جماعتِ اسلامی کشمیر سے مبینہ روابط رکھنے والے افراد اور مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے انجام دی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس کی ٹیموں نے امام صاحب، بٹہ گنڈ، نوپورہ، باسکچن اور کئی دیگر دیہات میں بیک وقت چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران متعدد گھروں اور دیگر جگہوں کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن حساس انٹیلی جنس ان پُٹس کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ضلع میں امن و قانون کی صورتحال کو مزید مضبوط بنانا اور ممنوعہ تنظیموں کی سرگرمیوں پر قدغن لگانا ہے۔ وہیں اننت ناگ میں بھی جماعت اسلامی کشمیر کے مقامات پر چھاپے مار کاروائی انجام دی گئی۔ اننت ناگ پولیس نے بتایا کہ یہ چھاپے ضلع میں امن و امان کو درپیش خطرات کی نشاندہی کے بعد مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کسی بھی ایسے فرد یا گروہ کے خلاف سخت اقدامات کرنے کے لئے پرعزم ہے جو عسکریت پسندی، حریت پسندی یا اس کی کسی بھی شکل کو سہارا دینے کی کوشش کرے۔

ممنوعہ تنظیموں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں اسی ذمہ دارانہ عمل کا حصہ ہیں۔ ایسے تمام عناصر جو عسکریت پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں یا کسی طرح کی حمایت فراہم کرتے ہیں، اُن کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ امن مخالف عناصر کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں تعاون کریں تاکہ ضلع میں پائیدار امن، بھائی چارہ اور معمول کی زندگی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اننت ناگ پولیس نے اعادہ کیا کہ عسکریت پسندی کے معاون ڈھانچے کے خلاف یہ مہم مستقبل میں بھی پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گی اور امن و قانون کی بحالی کے لئے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • انتخابی نظام غیر اسلامی، 36 سال پرانی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر 
  • بانی سے ملاقات‘ شوکت خانم ہسپتال اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کی  درخواستوں پر سماعت کل ہو گی
  • پی ٹی آئی خواتین کارکنوں پر مرد پولیس کا تشدد انتہائی شرمناک ہے‘ زین شاہ
  • موبائل نہ دینے پر ڈاکو نے 7 سالہ بچے کو گولی ماردی، اسپتال میں زیرِ علاج
  • شوگر ملز نہ چلانے کیخلاف درخواست پر سندھ ہائیکورٹ میں سماعت، سیکریٹری زراعت اور کین کمشنر طلب
  • شوگر ملز نہ چلانے کیخلاف درخواست پر سماعت، سیکریٹری زراعت اور کین کمشنر طلب
  • ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 13 کارکنوں کی نظربندی ختم کرنے کا حکم دیدیا
  • کالعدم مذہبی جماعت کے 181 کارکنان کو رہا کرنیکا حکم
  • حسن اسکوائر پر پولیس اہلکاروں کی صحافی آیت اللہ طاہر کو گالیاںو دھمکیاں
  • وادی کشمیر میں جماعتِ اسلامی کشمیر سے منسلک مختلف مقامات پر چھاپے