سائنس دانوں نے پیاز کاٹتے وقت رونے کا حل ڈھونڈ نکالا!
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ تیز دھار چھریوں کا استعمال کرتے ہوئے پیاز کو آہستہ آہستہ کاٹنا آنکھوں میں ہونے والی جلن کو کم کر سکتا ہے۔
پیاز کاٹتے وقت آنکھوں سے آنسو بہنا آنکھوں میں ہونے والے ایک کیمیکل ری ایکشن کے سبب ہوتا ہے۔ جب پیاز کو کاٹا جاتا ہے تو اس میں موجود ایک غیر مستحکم مرکب – syn-Propanethial-S-oxide – ہوا میں خارج ہوتا ہے اور آنکھوں کو متاثر کرتا ہے۔
جرنل پی این اے ایس میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں ان عوامل کا جائزہ لیا گیا جو پیاز کاٹے جانے کے دوران مختلف حجم میں اس مرکب کے بطور ایروسل خارج ہونے کا سبب بنتے ہیں۔
تحقیق میں سائنس دانوں نے ایک خاص قسم کے گلوٹین (جس میں مختلف قسم کے بلیڈ لگائے جاسکتے تھے) کا استعمال کرتے ہوئے پیاز کاٹی۔ ساتھ ہی اس عمل کے بہتر مشاہدے کے لیے انہوں نے پیاز کے ٹکڑوں کو رنگ سے ڈھک دیا۔
ہر ٹرائل میں سائنس دانوں نے چھری کا سائز، دھار اور کاٹنے کی رفتار بدلی اور چھری کے استعمال سے قبل پیمائش کے لیے ایک مائیکرو اسکوپ کا استعمال کیا گیا۔
مطالعے میں محققین کو معلوم ہوا کہ خارج ہونے والے مادے کا براہ راست تعلق چھری کی تیزی اور پیاز کے کٹنے کی رفتار سے تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا نکھوں
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔