معروف پاکستانی،امریکن بزنس مین اور سماجی کارکن ڈاکٹر انوش احمد نے اپنے والد ندیم محمد ندیم کی یاد میں جناح ہسپتال کراچی میں ایک خاص مہم کا آغاز کیا، جس میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج بچوں کے والدین اور سرپرستوں کو مفت کھانا فراہم کیا گیا۔
انوش فاؤنڈیشن کے تحت 300 کھانے کے باکسز تقسیم کیے گئے، جنہیں والدین اور سرپرستوں کو عزت اور احترام کے ساتھ دیا گیا تاکہ وہ اس مشکل گھڑی میں کچھ سکون محسوس کر سکیں۔ اگرچہ کھانا سادہ تھا، مگر اس نے ان والدین کو تھکن، پریشانی اور ذہنی دباؤ کے لمحات میں راحت دی۔
ڈاکٹر انوش احمد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہم میرے مرحوم والد کی یاد میں ایک خراج عقیدت ہے، جن کی سخاوت اور ہمدردی میرے لیے ہمیشہ ایک مثال رہی ہے۔ ان کا مقصد تھا کہ ایسے خاندانوں کی مدد کی جائے جو اپنی زندگی کے سب سے مشکل لمحات سے گزر رہے ہیں اور جنہیں مالی اور جذباتی بوجھ کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ مہم صحت، خوراک کی فراہمی اور تعلیم کے شعبوں میں ان کی سماجی خدمات کا حصہ ہے، اور ان کی فاؤنڈیشن پاکستان، مشرق وسطیٰ اور امریکہ میں ضرورت مندوں کی مدد کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ڈاکٹر انوش احمد کا کہنا تھا کہ ایسی کمیونٹی مہمات بہت ضروری ہیں تاکہ علاج کے لیے آنے والے خاندان خود کو تنہا یا بے سہارا محسوس نہ کریں۔
یہ مہم خاص طور پر اس لیے شروع کی گئی کیونکہ انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج بچوں کے اہل خانہ اکثر دنوں تک اسپتال میں قیام کرتے ہیں اور انہیں کھانے اور دیگر سہولیات تک محدود رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ چھوٹا سا اقدام ان کے لیے بہت بڑی راحت کا باعث بنتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار