اسلام آباد اور خبیرپختونخوا میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔زلزلہ اتنا شدید تھا کہ گھروں اور عمارتوں میں موجود لوگ باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگے۔
زلزلہ کے بعد لوگ ایک دوسرے سے خیریت معلوم کرتے رہے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 تھی۔ جس سے خبیرپختونخوا کے مختلف اضلاع متاثر ہوئے۔
زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز ہندو کش ریجن افغانستان تھا۔
فیصل آباد میں مقیم 119 افغان مہاجروں نے رضا کار انہ طور پر پاکستان چھوڑ دیا
زلزلے کے شدید جھٹکے اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت خبیرپختونخوا میں پشاور، بونیر، بٹ خیلہ، سوات اور چترال میں محسوس کیے گئے۔
اب تک اس زلزلہ سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
زلزلے کے یہ جھٹکے لاہور میں محسوس نہیں کئے گئے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: زلزلے کے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔