کاہنہ میں فضائی آلودگی کم کرنے کیلئے اسموگ گنز کا استعمال
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
لاہور:
کاہنہ میں آلودگی کم کرنے کیلئے اسموگ گنز کا استعمال کیا گیا، قبل ازیں اسموگ گنز لاہور میں بھی استعمال کی جاچکی ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور کے علاقے کاہنہ میں فضائی آلودگی میں اسموگ گنز کے استعمال کے کامیاب نتائج برآمد ہوئے، کاہنہ میں اسموگ گنز کے استعمال سے 'ائیر کوالٹی انڈیکس' 666 سے کم ہو کر 170 پر آ گیا، اسموگ گنز کے استعمال سے فضائی آلودگی میں 70 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسموگ گنز کے استعمال اور ’’اے کیو آئی‘‘ میں کمی کا جدید سائنسی ماحولیاتی نگرانی کے نظام سے تجزیہ اور تصدیق کی گئی۔
اینٹی اسموگ گنز کے باضابطہ استعمال کا کاہنہ میں پہلا تجربہ تھا جو کامیاب ثابت ہوا، ماحولیاتی تحفظ کے ادارے 'اسموگ کنٹرول وار روم' نے کاہنہ میں 'اے کیو آئی' میں غیر معمولی اضافہ نوٹ کیا، ای پی اے 'اسموگ گنز' کے تین موبائل یونٹس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر آپریشن کیا۔
اسموگ گنز کے اسپرے کے چند منٹوں بعد ہی فضائی آلودگی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے انوائرمنٹل پروٹیکشن فورس کی تمام ٹیم کو شاباش دی اور کہا کہ پنجاب عوام کی خدمت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں سب سے آگے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسموگ گنز کے استعمال کاہنہ میں
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔