اسرائیلی جارحیت نے امن معاہدہ روند ڈالا، غزہ میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد شہید
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
شہدا میں 7 معصوم بچے، تین خواتین شامل ہیں، جو اپنے گھر لوٹ رہے تھے
واقعہ الزیتون میں پیش آیا، اسرائیلی طیارے نے کار کو نشانہ بنایا،عینی شاہدین
اسرائیل نے ایک بار پھر امن معاہدے کو پامال کرتے ہوئے غزہ پر فضائی حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد جاں بحق ہوگئے۔ شہدا میں سات معصوم بچے اور تین خواتین شامل ہیں، جو اپنے گھر لوٹ رہے تھے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ المناک واقعہ غزہ شہر کے علاقے الزیتون میں پیش آیا، جہاں اسرائیلی طیارے نے ایک کار کو نشانہ بنایا۔ حملے کے وقت گاڑی میں سوار تمام افراد موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، جس سے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کی اس جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صیہونی فورسز دانستہ طور پر نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔حماس کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی مصر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے اور عالمی برادری کو اس پر فوری نوٹس لینا چاہیے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس تازہ حملے کو انسانیت سوز جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر امن اور انسانی اقدار کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔