افغانستان سمیت جو بھی حملہ کریگا جواب ملے گا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
پاکستان کے خلاف کوئی بھی جارحیت کریگا تو ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہونگے
8 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے، 12لاکھ اب بھی ہیں، سہیل آفریدی کی گفتگو
صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ افغانستان سمیت جو بھی حملہ کرے گا اس کو بھرپور جواب ملے گا۔پشاور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ مجھے کسی کے خلاف نہیں لایا گیا، آئین اورقانون کی بالادستی کے لیے آیا ہوں، ہمارا ہر قدم قانون اور آئین کے مطابق ہوگا، پرامن احتجاج کرینگے۔انہوں نے کہا کہ یہ صوبہ ہم سب کا ہے، گزشتہ حکومت میں ہم تھوڑے کمزور تھے، ہم عدالتوں میں جنگ لڑرہے ہیں، انصاف نہ ملاتواحتجاج ہی کرینگے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھاکہ افغانستان سمیت جو بھی حملہ کرے گا اس کو بھرپور جواب ملے گا، پاکستان کے خلاف کوئی بھی جارحیت کرے تو ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہونگے، یہاں سے 8 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے، 12لاکھ اب بھی ہیں، باعزت طورپربھجوائیں گے، افغان مہاجرین نے اتناوقت یہاں گزارا تو باعزت واپس جائیں۔انہوں نے کہا کہ میں حکومت چلانے نہیں تبدیلی کے لیے آیا ہوں، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت نہ ملاتو کابینہ سے متعلق مشاورت کے لیے پارٹی سے بات کروں گا۔سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ پہلے مجھے ٹارگٹ کیا گیاپھر آئینی عمل روکا گیا کیا، یہ طریقہ ہے؟ میں نے چیف جسٹس کو خط لکھا اور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جو اعتراضات دور کرکے پیرکو دوبارہ دائرکرینگے۔ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جسے بانی پی ٹی آئی کہیں گے وہی کابینہ میں ہوگا ورنہ نہیں، کابینہ کے اہل اور نااہل ارکان کے بارے میں بانی کوبتاؤں گا، بانی نے صرف مزمل اسلم کو کابینہ میں شامل کرنے کا کہا ہے، ایڈوائزری کونسل کی بات پارٹی میں ہوئی نہ کسی نے بات کی، بحیثیت ورکرپارٹی تنظیم اور وزیراعلیٰ کے طورپر صرف عمران خان کوجوابدہ ہوں۔سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ صنم جاوید کے حوالے سے خاص نہیں، عام ہدایات تھیں اور یہ ہدایت تمام سیاسی ورکروں کے لیے تھیں کہ کسی سیاسی ورکرکو گرفتارنہ کیاجائے، صنم جاوید کی رپورٹ ملی لیکن مطمئن نہیں دوبارہ لوں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کا کہنا تھاکہ سہیل ا فریدی کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔