سکیورٹی فورسز کی زبردست کارروائی: اہم سرغنوں سمیت گل بہادر گروپ کے 70 سے زائد خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اسلام آباد: پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغانستان کے پکتیکا صوبے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر انتہائی ٹارگٹڈ پریسشن سٹرائیکس کیں، جن میں گل بہادر گروپ کے 70 سے زائد خوارج مارے گئے۔ یہ کارروائی 17 اکتوبر کی رات کو انجام دی گئی، جسے سکیورٹی حکام نے ایک اہم اور بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
سکیورٹی اداروں نے یہ کارروائی انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کی اور تمام قیاس آرائیاں جو شہریوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتی ہیں، جھوٹی اور دہشت گردوں کی حمایت کے لیے پھیلائی گئی ہیں۔
سکیورٹی حکام کے مطابق گل بہادر گروپ پر سٹرائیکس میں مارے جانیوالے اہم خارجی سرغنوں میں فرمان عرف الکرامہ بھی شامل ہے اس کے علاوہ خارجی سرغنہ گلاب عرف دیوانہ ، خارجی رحمانی، خارجی عادل ، خارجی فضل الرحمان ،خارجی صدیق اللہ داوڑ، خارجی غازی مداخیل، خارجی مقرب اور خارجی قسمت اللہ ہلاک ہوئے ہیں ۔
یہ گروپ دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہا ہے
یہ کارروائی شمال وزیرستان کے کھادی علاقے میں 17 اکتوبر کو گل بہادر گروپ کے ایک گاڑی سے بم دھماکے (VBIED) کے حملے کے فوری بعد کی گئی، جس میں 3 خواتین، 2 بچے اور ایک جوان فوجی شہید جبکہ 6 دیگر زخمی ہوئے۔ حملہ آوروں نے فوجی کیمپ پر قبضے کی کوشش کی، لیکن پاکستانی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے تمام حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گل بہادر گروپ
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔