شمالی وزیرستان ‘ بنوں : سیکورٹی فورسز کا آپریشن 6، دہشتگر د ہلاک ، 3خواتین ‘ 2بچے جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
پشاور+ بنوں(آئی این پی ) سکیورٹی فورسز کی خوارج کے خلاف کارروائیوں کے دوران 6 دہشتگرد ہلاک جبکہ 3 خواتین اور 2 بچے جاں بحق ہو گئے۔سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں خارجیوں کی سیکڑوں ہلاکتوں کے بعد فتن الخوارج کے دہشت گرووں نے معصوم بچوں اور عورتوں پر بزدلانہ خود کش حملہ کیا۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ 17 اکتوبر کو شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں کھادی پوسٹ پر فتن الخوارج کے دہشت گردوں نے بزدلانہ خود کش حملے کی ناکام کوشش کی، فتن الخوارج کے دہشت گردوں کے بزدلانہ خود کش حملے میں جل کر 3 خواتین اور 2 بچے جاں بحق ہو گئے۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ سیکیورٹی فورسزنے خوارج کا خودکش حملہ ناکام بناتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، خارجی دہشت گرد گل بہادر گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی، خارجی گل بہادر افغان طالبان کی سرپرستی میں افغانستان میں چھپا ہوا ہے۔سکیورٹی فورسز نے خیبر پی کے کے ضلع بنوں کے مغل کوٹ سیکٹر میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دو دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی میں فتنہ الخوارج کے طارق کچھی گروپ کو موثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، آپریشن کے دوران گروپ کا سرغنہ طارق کچھی اور اس کا ساتھی حکیم اللہ عرف ٹائیگر مارے گئے۔سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے، طارق کچھی کی دہشت گرد تشکیل تنظیم گزشتہ دو سال سے دہشت گردانہ کارروائیوں میں سرگرم تھی۔اطلاعات کے مطابق یہ گروہ فتنہ الخوارج طالبان کیلئے بھتہ خوری اور افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردوں کی دراندازی میں سہولت کاری میں بھی ملوث تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: الخوارج کے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک