غزہ کی انتظامی کمیٹی کیلئے حماس نے 40 نام پیش کر دیئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں بشارة بحبح کا کہنا تھا کہ غزہ پٹی کا انتظام، 15 رکنی آزاد فلسطینی کمیٹی کے پاس ہوگا۔ سکیورٹی کے لحاظ سے بھی اس علاقے کو منظم کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" کے رہنماء "محمد نزال" نے كہا کہ ہم اسرائیلی قیدیوں کو زندہ واپس کرنے اور ہلاک شدہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی واپسی کے پابند ہیں۔ محمد نزال نے کہا کہ اسرائیل، رفح کراسنگ کو دوبارہ نہ کھولنے کی دھمکی دے کر فلسطینی عوام سے تاوان وصول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ثالثوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ معاہدے کے مطابق رفح کراسنگ کھولنے کے لئے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس نے معاہدے کے پہلے مرحلے میں طے ہونے والے امور انجام دے دیئے ہیں۔ اب معاہدے کا دوسرا مرحلہ شروع ہونا چاہیئے۔ محمد نزال نے کہا کہ حماس کو صیہونی قیدیوں کی لاشوں کو ڈھونڈنے اور ملبے کے نیچے سے نکالنے کے لئے ہیوی مشنری و خصوصی فنی ٹیموں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتین یاہو کی وعدہ خلافیوں کی وجہ سے جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ شروع نہ ہوسکا۔ انہوں نے خبر دی کہ فلسطینی مزاحمت نے ٹیکنوکریٹس کی ایک کمیٹی کے انتخاب کے لئے 40 سے زائد آزاد قومی شخصیات کی فہرست تیار کرکے پیش کر دی ہے، تاکہ غزہ کی پٹی کے انتظامی امور چلائے جا سکیں۔
آخر میں حماس کے رہنماء نے کہا کہ فلسطینی مقاومت مکمل طور پر قومی مکالمے کے دائرے میں، غزہ پٹی کے انتظام کے تمام منصوبوں کا خیرمقدم کرتی ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں امریکی ایلچی "اسٹیو ویٹكاف" كے قریب سمجھی جانے والی شخصیت اور امریكن عرب كمیٹی كے سربراہ "بشارة بحبح" نے گذشتہ روز خبر دی كہ امریکہ، سلامتی کونسل میں ایک ایسا منصوبہ پیش کرنے والا ہے، جس کے تحت غزہ میں انتظامی امور چلانے كے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی، فلسطینی گروہوں اور دیگر عرب ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔ بشارۃ بحبح نے کہا کہ بعض عرب حکومتوں نے اقوام متحدہ کی منظوری اور فلسطینی اتھارٹی سمیت PLO کی درخواست کے بغیر غزہ میں اپنی سکیورٹی فورسز بھیجنے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ پٹی کا انتظام، 15 رکنی آزاد فلسطینی کمیٹی کے پاس ہوگا۔ سکیورٹی کے لحاظ سے بھی اس علاقے کو منظم کیا جائے گا۔ سکیورٹی کا معاملہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہوگا۔ اس گروپ کے زیادہ تر ارکان مصر اور کچھ عرب ممالک سے ہوں گے۔ یہ افراد سکیورٹی کے لحاظ سے غزہ کا کنٹرول سنبھالیں گے اور غزہ کے روزمرہ معاملات کی ذمہ داری اسی کمیٹی کے سر ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔