گڑھی یاسین پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام آج بھی وہی نظریہ رکھتے ہیں جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ کا تھا، کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ کسان کو اس کی محنت کا صلہ ملنا چاہئے۔ پاکستان میں جان بوجھ کر زراعت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ کھاد، پیٹرول اور زرعی ادویات کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی گئی ہیں، جبکہ گندم اور دھان کی قیمتیں گرا کر کسان کو دیوالیہ بنا دیا گیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ فلسطینی عوام خود کریں، امریکہ و اسرائیل کون ہوتے ہیں فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والے۔ یہ بات انہوں نے گڑھی یاسین پریس کلب میں ایم ڈبلیو ایم شکارپور کے ضلعی صدر اصغر علی سیٹھار، نائب صدر دولہہ دریا خان جتوئی، تحصیل صدر سید نوید علی شاہ، مستنصر مہدی ابڑو، سعید احمد خروس اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ صرف فلسطینی عوام کو کرنے دیا جائے۔ امریکہ اور اسرائیل کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ فلسطینی عوام کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کریں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سامراجی قوتوں کی پشت پناہی سے اسرائیل نے فلسطین کی سرزمین پر ناجائز قبضہ کیا ہے، جو کسی طور بھی جائز نہیں سمجھا جا سکتا۔ پاکستان کے 25 کروڑ عوام آج بھی وہی نظریہ رکھتے ہیں جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ کا تھا، کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ جنگ بندی کا مطلب یہ نہیں کہ ستر ہزار بے گناہ انسانوں کے قاتلوں کو معاف کر دیا جائے۔ امریکا اور اسرائیل کو غزہ میں 70 ہزار فلسطینیوں کے قتل عام کا حساب دینا ہوگا۔ اس ظلم میں شریک عالمی مجرموں، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ اپنے خطاب میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے ملک میں بڑھتے ہوئے زرعی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا پاکستان میں جان بوجھ کر زراعت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ کھاد، پیٹرول اور زرعی ادویات کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی گئی ہیں، جبکہ گندم اور دھان کی قیمتیں گرا کر کسان کو دیوالیہ بنا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت عوام کو سستی گندم اور چاول دینا چاہتی ہے تو سبسڈی حکومت دے، لیکن کسان کو اس کی محنت کا پورا صلہ ضرور ملنا چاہیے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، لہٰذا ملکی معیشت کی ترقی کے لیے زراعت اور کسان پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے سندھ کی بگڑتی امن و امان سے متعلق کہا کہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ چوری، ڈکیتی، موٹر سائیکل اور موبائل چھیننے کی وارداتیں عام ہو چکی ہیں، تاجر اور شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ حکومت سندھ کو امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم میں اضافے نے عوامی زندگی کو خوف اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ لہٰذا حکومت کو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فعال بنانا ہوگا تاکہ شہری سکون سے زندگی گزار سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام علامہ مقصود کہ فلسطین کی قیمتیں ڈومکی نے کسان کو

پڑھیں:

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔

سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد