کمشنر کراچی کا پولیو مہم کا جائزہ۔ عدم تعاون پر قانونی کارروائی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں انسداد پولیو مہم بھرپور انداز میں جاری ہے، انکاری اور رہ جانے والے بچوں کی ویکسینیشن میں اضافہ ہوا ہے۔کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے ڈپٹی کمشنر ملیر سلیم اللہ اوڈھو کے ہمراہ ضلع ملیر کی حساس یونین کونسلوں مسلم آباد اور مظفر آباد کا دورہ کیا اور کارکردگی کا جائزہ لیا۔اس موقع پر پولیو ٹاسک فورس کے کوآرڈینیٹر سعود یعقوب، پولیس افسران اور ہیلتھ ٹیمیں بھی موجود تھیں۔پولیو ورکرز نے شکایت کی کہ بعض والدین ویکسین سے انکار کرتے ہیں اور توہین آمیز رویہ اپناتے ہیں۔کمشنر نے واضح کیا کہ ایسے والدین کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی، انتظامیہ اور پولیس کو سخت اقدامات کی ہدایت دی گئی ہے۔پانچ روزہ مہم میں 21 لاکھ 41 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے،جبکہ انکار کرنے والے تین لاکھ بچوں کی ویکسینیشن بھی مکمل کر لی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔