لاہور میں اسموگ کی شدت برقرار، فضائی معیار خطرناک حد کے قریب پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
لاہور:
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اسموگ کی شدت برقرار ہے جب کہ فضائی معیار بھی خطرناک حد کے قریب پہنچ گیا ہے۔
اسموگ نگرانی اور پیشگی نظام کی تازہ رپورٹ کے مطابق لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال آج دوپہر 12 بجے تک تشویشناک حد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ محکمہ ماحولیات کے مطابق بھارت سے چلنے والی آلودہ مشرقی ہواؤں کے باعث لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 185 تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں دیوالی کی تقریبات کے دوران شام کے اوقات میں فضائی آلودگی میں عارضی اضافہ متوقع ہے، تاہم ای پی اے کی جانب سے لاہور کی فضائی کیفیت کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے جب کہ ہواؤں کی رفتار 6 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کا امکان ہے، جس میں وقفے وقفے سے معمولی تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔
شہر میں بارش کے کوئی امکانات نہیں ہیں جس کے باعث قدرتی طور پر آلودگی میں کمی کا امکان بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم رفتار ہوائیں، فضائی دباؤ اور درجہ حرارت میں تبدیلی اے کیو آئی میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں جب کہ بعض علاقوں میں آلودگی کے عارضی پیچز بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
متعلقہ محکموں اور ماہرین نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ دھوئیں یا آلودگی کے کسی بھی غیر معمولی اخراج کو فوری طور پر 1373 پر رپورٹ کریں۔ ترجمان کے مطابق ای پی اے مکمل طور پر انسدادِ اسموگ ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنا رہا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔