بھارت نے روسی تیل کی خریداری نہ روکی تو بھاری ٹیرف جاری رہیں گے: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
بھارت نے روسی تیل کی خریداری نہ روکی تو بھاری ٹیرف جاری رہیں گے: ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 20 October, 2025 سب نیوز
واشنگٹن: مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے تیل کی خریداری نہ روکنے پر ایک بار پھر بھارت کو خبردار کردیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ بھارت نے روسی تیل کی خریداری نہ روکی تو اس پر بھاری ٹیرف جاری رہیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ نریندرمودی نے کہا تھا وہ روسی تیل نہیں خریدیں گے، بھارت کو روسی تیل پر فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ اس پر معاشی دباؤ بڑھے گا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ چین کے ٹیرف کم کر سکتے ہیں مگر اسے ہمارے لیے کچھ کرنا ہوگا، چاہتے ہیں کہ چین امریکا کے ساتھ نایاب معدنیات کا کھیل نہ کھیلے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کولمبیا پر ٹیرف سے متعلق مزید اعلان پیر کو کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر خوش نہیں تھے مگر اب یہ معاملہ طے ہوگیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیلی فوج نے غزہ میں خون کی ہولی کھیلنے کے بعد جنگ بندی معاہدہ بحال کردیا اسرائیلی فوج نے غزہ میں خون کی ہولی کھیلنے کے بعد جنگ بندی معاہدہ بحال کردیا اسلام آباد: بری امام میں آپریشن، 17 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار ایم ایف پاکستان پر قومی مفاد کیخلاف شرط عائد نہیں کرسکتا، وزیر خزانہ سیز فائر میں درجنوں فلسطینیوں کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل کا جنگ بندی بحالی کا نیا ڈرامہ ایران میں ایک اور اسرائیلی جاسوس کو پھانسی دے دی گئی جنگ بندی معاہدہ خطرے میں، اسرائیلی فوج کے غزہ پر حملے جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: روسی تیل کی خریداری تیل کی خریداری نہ
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک