الخدمت فاؤنڈیشن نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد بحالی کے منصوبے ’ری بلڈ غزہ‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق ابتدائی طور پر 15 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، جبکہ اب تک غزہ کے متاثرین پر 8 ارب 10 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

فاؤنڈیشن کی جانب سے اب تک 5 ہزار ٹن امدادی سامان فراہم کیا جا چکا ہے، جسے ائیر کارگو اور بحری بیڑے کے ذریعے 35 کنسائنمنٹس کی صورت میں غزہ بھجوایا گیا۔ ان میں 25 خیمے، 73 ہزار کمبل، 65 ہزار فوڈ پیکجز، 22 ہزار چاول اور 15 ہزار آٹے کے تھیلے، 25 ہزار ہائی جین کٹس، 18 ہزار ڈلیوری کٹس اور 20 ہزار بے بی کٹس شامل ہیں۔

جنگ بندی کے بعد الخدمت فاؤنڈیشن شارٹ اور لانگ ٹرم 2 مراحل میں بحالی کی سرگرمیاں شروع کر رہی ہے۔

فوڈ سیکورٹی پروگرام

پہلے مرحلے میں غزہ کے اندر خوراک کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ 100 ٹن امدادی سامان پاکستان سے قاہرہ پہنچ چکا ہے، جو اگلے 3 روز میں غزہ منتقل کیا جائے گا۔

مزید 6 ہزار خاندانوں کے لیے ایک ماہ کا فوڈ پیکچ قاہرہ میں تیار کر کے روانہ کیا گیا ہے۔ مصر میں 100 ٹن چاول کی خریداری بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ قربانی کے 100 ٹن گوشت کو ریڈی ٹو ایٹ فوڈ پیکس کی صورت میں غزہ بھجوایا جائے گا۔

واٹر سپلائی پروگرام

اس وقت غزہ میں ’الخدمت‘ کے 6 واٹر فلٹریشن پلانٹ کام کر رہے ہیں۔ اگلے مرحلے میں 100 نئے پانی کے منصوبے شروع کیے جائیں گے تاکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

ونٹر ریلیف پروگرام

سردی کے آغاز کے پیش نظر اگلے 10 دنوں میں امدادی سامان سے بھرے 2 طیارے پاکستان سے روانہ کیے جائیں گے۔ ایک طیارے میں خیمے، ترپال اور شیلٹر کا سامان جبکہ دوسرے میں کمبل، بستر، سلیپنگ بیگز اور گرم کپڑے شامل ہوں گے۔
دبئی میں ڈونرز کے تعاون سے ایک ہزار گرم کمبل بھی خرید کر غزہ بھجوائے جائیں گے۔

ایجوکیشن پروگرام

الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت غزہ میں 2 شیلٹر اسکولز کام کر رہے ہیں جبکہ مزید 5 صوبوں غزہ سٹی، شمالی غزہ، دیر البلح، خانیونس اور رفح میں نئے اسکول قائم کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت 404 فلسطینی طلبہ الخدمت اکیڈمک اسکالرشپ پر زیرِ تعلیم ہیں، جن کی تعداد کو بڑھا کر 1 ہزار تک لے جایا جائے گا۔

آن لائن ایجوکیشن پراجیکٹ فائنل ہو چکا ہے جس کے تحت قاہرہ میں ’بنوقابل‘ طرز کا ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ قائم کیا جائے گا۔ مستقبل میں اسکل ڈویلپمنٹ سینٹرز بھی غزہ میں شروع کیے جائیں گے۔

اورفن سپورٹ پروگرام

فی الحال 750 یتیم بچوں کی کفالت جاری ہے جبکہ 100 بچوں کی دیکھ بھال مصر میں کی جا رہی ہے۔ ادارہ اس تعداد کو بڑھا کر 3 ہزار تک لے جانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

شہداء فیملی سپورٹ

الخدمت فاؤنڈیشن نے 1550 شہداء خاندانوں کو رجسٹرڈ کیا ہے اور پہلے مرحلے میں 50 خاندانوں کی کفالت شروع کر دی گئی ہے۔ مصر میں 6 رہائشی عمارتوں میں 60 خاندانوں کی کفالت بھی جاری ہے۔ اب غزہ میں ایک رہائشی بلڈنگ کی تعمیر شروع کی جائے گی۔

ہیلتھ پروگرام

الخدمت فاؤنڈیشن 394 ٹن ادویات غزہ بھجوا چکا ہے، اور 3 ایمبولینسیں وہاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

زخمیوں اور مریضوں کو پاکستان منتقل کر کے علاج فراہم کرنے کا منصوبہ ہے جس کے لیے ابتدائی طور پر 500 مریضوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

فیلڈ ہاسپٹل اور مصنوعی اعضا

غزہ میں فیلڈ ہاسپٹل کے قیام پر کام جاری ہے جو نہ صرف علاج بلکہ مصنوعی اعضا (آرٹیفیشل لمز) کی تیاری کا مرکز بھی ہوگا۔

مساجد بحالی پروگرام

پہلے مرحلے میں 5 شیلٹر مساجد قائم کی جا چکی ہیں، جبکہ مزید 25 مساجد کی بحالی پر کام جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الخدمت فاؤنڈیشن غزہ فلسطین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الخدمت فاؤنڈیشن فلسطین الخدمت فاؤنڈیشن مرحلے میں جائیں گے جائے گا جاری ہے کیے جا چکا ہے

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا،نئی قیمتیں جانئے
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع