پنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کی پہلی اننگز 333 رنز پر سمٹ گئی، مہاراج کی تباہ کن بولنگ
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان جاری دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز میزبان ٹیم کی پہلی اننگز 333 رنز پر تمام ہوگئی۔
جنوبی افریقی اسپنر کیشوو مہاراج نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی بیٹنگ لائن کو اکھاڑ دیا اور 7 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
آج دوسرے روز کھیل کا آغاز پاکستان نے 259 رنز پانچ کھلاڑی آؤٹ پر کیا۔ سعود شکیل 42 اور آغا سلمان 10 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔ دونوں بیٹرز نے پراعتماد انداز میں اننگز کو آگے بڑھایا اور چھٹی وکٹ کی شراکت میں قیمتی رنز جوڑے۔
سعود شکیل نے اپنی نصف سنچری مکمل کی لیکن زیادہ دیر کریز پر نہ رک سکے اور 66 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ ان کے بعد سلمان علی آغا نے بھی 45 رنز کی مفید اننگز کھیل کر ٹیم کے مجموعے میں اضافہ کیا۔
مڈل اور لوئر آرڈر بیٹسمین بھی زیادہ مزاحمت نہ دکھا سکے۔ شاہین شاہ آفریدی، ساجد خان اور آصف آفریدی کیشوو مہاراج کے اسپن جال میں پھنس گئے۔ نعمان علی 6 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ پاکستان کی اننگز 333 کے مجموعے پر اختتام پذیر ہوئی۔
جنوبی افریقا کی جانب سے کیشوو مہاراج کے علاوہ سائمن ہارمر نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ ایک وکٹ کگیسو ربادا کے حصے میں آئی۔ مہاراج نے اپنی نپی تلی لائن اور گیند میں تنوع کے ذریعے پاکستانی بلے بازوں کو مشکلات میں ڈالے رکھا۔
اس سے قبل پہلے روز پاکستانی کپتان شان مسعود نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 87 رنز بنائے تھے جب کہ عبداللہ شفیق 57 رنز کی پُراعتماد اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے تھے۔ ان دونوں کے درمیان شراکت داری نے ٹیم کو مضبوط آغاز فراہم کیا تھا، مگر بعد میں مڈل آرڈر کی غیر یقینی کارکردگی نے رفتار کو سست کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔