خیبر پی کے : گورنر بلٹ پروف گاڑیوں ک واپسی پررپورٹ طلب کرلی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
پشاور+ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+اپنے سٹاف رپورٹر سے) گورنر خیبر پی کے فیصل کریم کنڈی نے بلٹ پروف گاڑیاں واپس کرانے کی رپورٹ مانگ لی۔ گورنر نے کہا کہ گاڑیاں ٹھیک تھیں تو حکومت کو رکھنی چاہئے تھیں۔ دوسری طرف اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پی کے جیسی کم عقل قیادت اور ٹی ایل پی جیسی سوچ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر سنجیدہ ہیں، کے پی کو دی گئی گاڑیوں کو انہوں نے ناقص قرار دیا اور وصول کرنے سے انکار کیا، یہی گاڑیاں وزراء استعمال کرتے تھے۔ افسوس کی بات ہے گاڑیوں کو سیاست کی نذر کردیا، ایک بلٹ پروف گاڑی کی قیمت 10 کروڑ روپے ہے۔ ٹی ایل پی کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ غزہ کے لیے مارچ کرنے والوں کا ایک بھی مطالبہ غزہ کے لیے نہیں تھا۔ 69 مہنگی برانڈز واچز ان کی تجوری سے نکلی ہیں جو توشہ خانہ میں بھی نہیں ہیں۔ طلال چوہدری نے کہا کہ 100 ایسے اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی ہے جس پر سود کے ذریعے وہ کروڑوں روپے وصول کرتے تھے۔ سعد رضوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج تک لاپتا ہے۔ انہوں نے کفن باندھا ہوا تھا، نہ کفن مل رہا ہے اور نہ کفن باندھنے والا مل رہا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ایک طرف افغانستان ہم پر بمباری کررہا تھا اور دوسری جانب ٹی ایل پی والے مریدکے میں پولیس والوں پر گولیاں پر برسا رہے تھے۔ ایسی سیاست کرنے والوں کی پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں۔ طلال چوہدری نے کہا کہ ہم مولانا صاحب کو ناراض نہیں کرسکتے، وہ پاکستان کا اثاثہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔