خیبر پختونخوا کو بھی بزدار ٹو مل گیا، طلال چوہدری کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد سے تازہ سیاسی بیان میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو “بزدار ٹو” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا نہیں بلکہ سوچ بدلنے کا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ وزیراعلیٰ بدلنے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں رکے گی۔ خیبر پختونخوا نے خود بلٹ پروف گاڑیاں نہیں خریدیں، وفاق نے فراہم کیں تو اعتراض کیا گیا کہ یہ پرانی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ گاڑیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے دی گئیں مگر افسوس کے ساتھ ان پر سیاست کی جا رہی ہے۔
طلال چوہدری کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے لیے عالمی معیار کی بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی گئیں جن کی فی گاڑی قیمت 10 کروڑ روپے ہے اور ان میں بم پروف خصوصیات بھی شامل ہیں۔ یہ گاڑیاں وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر دی گئیں اور وفاقی حکومت نے مالی مشکلات کے باوجود پولیس کی حفاظت کو ترجیح دی۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کی سوچ بچگانہ ہے، وہ بانی پی ٹی آئی کو خوش کرنے کے لیے سیاسی ڈرامے کر رہے ہیں۔ نیشنل ایکشن پروگرام ایک ریاستی پالیسی ہے جو وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متاثر نہیں ہوگی۔
طلال چوہدری نے وزیراعلیٰ کو سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں “سہیل بزدار” کو جان بوجھ کر لگایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وزیراعلیٰ اس پولیس کے ساتھ کیسے کھڑا ہوگا جسے اس نے ہتھیار تک فراہم نہیں کیے، خود بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر نہتی پولیس کو جنگ میں دھکیلنا انصاف نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا طلال چوہدری کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔