اسکاٹ لینڈ میں 22 سالہ کیرا کوزِنز نے اپنے علاقے میں حیرت اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جب اس نے فرضی حمل کرکے ایک پلاسٹک کی گڑیا کو پیدا کرنے کا ڈرامہ کیا اور پھر دعویٰ کیا کہ بچہ فوت ہو گیا۔

کیرا نے مصنوعی حمل کا پیٹ (پروستھیٹک بَمپ) پہنا اور جعلی الٹرا ساؤنڈ اسکین، اسپتال کے دورے اور یہاں تک کہ جینڈر ریویل پارٹی تک کا ڈرامہ کیا۔

اس کے خاندان اور دوستوں نے حمل کو حقیقت سمجھا اور مہنگے تحائف بھی خریدے، جب تک کہ کیرا کی ماں نے اس کے کمرے میں گڑیا دیکھ کر حقیقت آشکار نہ کی۔

مزید پڑھیں: ’مجھے بھی گھر میں گڑیا کہہ کر بلاتے ہیں‘: مریم نواز کی سیلاب متاثرہ بچوں سے ملاقات، تحائف تقسیم

کیرا نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسے خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کھیل کب ختم کرے۔ اس واقعے نے بڑے پیمانے پر تبادلۂ خیال کو جنم دیا، اور کئی افراد نے کہا کہ کیرا کو ذہنی مدد حاصل کرنی چاہیے۔

کیرا کی دوست نیو میک رابرٹ نے بتایا کہ لوگوں کو شک تب ہوا جب کبھی ’بچے‘ کی رونے کی آواز نہیں سنی گئی۔ کیرا کسی کو بچے کے قریب نہیں آنے دیتی تھی اور دعویٰ کرتی تھی کہ بچہ بیمار ہے اور حال ہی میں اسپتال گیا تھا۔

مزید پڑھیں: چین: ’لیبوبو‘ گڑیا نہ ملنے پر بچے نے رشتے داروں کا لاکھوں یوآن کا نقصان کردیا

نیو میک رابرٹ نے مزید کہا کہ کیرا نے ہر تصویر اور ویڈیو حذف کر دی۔ میں نے بچے کے والد سے پوچھا کہ کیا یہ گڑیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں، یہ گڑیا ہے۔ کیرا نے یہاں تک کہا کہ بچہ فوت ہو گیا۔

اس واقعے نے سب کو صدمے میں ڈال دیا کیونکہ سب نے اس پر مہینوں تک یقین کیا تھا، جینڈر ریویل پارٹی کی خوشیاں منائیں اور جعلی اسکینز کو دیکھا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

Kira Cousins اسکاٹ لینڈ کیرا کوزِنز گڑیا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسکاٹ لینڈ کیرا کوز نز گڑیا کیرا نے کہا کہ

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور